Inquilab Logo Happiest Places to Work

اروناچل : ہندوستانی علاقے پر چینی قبضہ کی توثیق!

Updated: June 30, 2026, 1:04 PM IST | Agency | New Delhi

ریاست کی ایک ویلفیئر سوسائٹی نےسنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ چین کی فوج نے ہندوستانی حدود میں سڑکیں، پل اور فوجی کیمپ بنا لئے ہیں۔

Various Claims Are Made Of Chinese Occupation Of Parts Of Arunachal Pradesh.Photo:INN
ارونا چل پردیش کے کچھ حصوں پر چین کے قبضے کے مختلف دعوے کئے جاتے ہیں۔ تصویر:آئی این این

اروناچل پردیش کےضلع اپر سبنسیری کے تاکسنگ علاقے کی ایک کمیونٹی تنظیم نے ہندوستانی حکام سے اپیل کی ہے کہ ہندوستان- چین سرحدی علاقوں میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے ) کی جانب سے کیے گئے مبینہ تجاوزات کی جانچ کی جائے۔

یہ بھی پڑھئے:پیراگوئے نے جرمنی کو پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دے کر ورلڈ کپ سے باہر کر دیا


’ ای ٹی وی بھارت‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق این ڈبلیو ایس نامی ویلفیئر سوسائٹی نے ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو ایک میمورنڈم پیش کیا ہے جس میں دعویٰ کیا ہے کہ چینی فوج نے ہندوستانی علاقے میں سڑکیں، پل اور فوجی کیمپ بنا لیے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ تعمیرات گزشتہ دہائی کے دوران ہوئی ہیں اور ان تجاوزات نے روایتی چراگاہوں، شکار کے میدانوں اور مقامی برادریوں کے آبائی علاقوں کو متاثر کیا ہے۔ تنظیم نے اوینگ (اسافلہ علاقہ)، پنیار (چوجارتا علاقہ)، مارپن (مارنافے)، پوترانگ جھیل، اور ٹنڈنگ ٹانگ (ٹی جی) کو ایسے مقامات کے طور پر نشانزد کیا ہے جہاں اس کا دعویٰ ہے کہ چینی فوج نے بنیادی ڈھانچہ تعمیر کر لیا ہے۔اپنے میمورنڈم میں این ڈبلیو ایس نے ضلع انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو اروناچل پردیش حکومت اور مرکزی حکومت کو مناسب کارروائی کے لیے بھیجیں۔ اس نے سرحد پر رہنے والے باشندوں کے مفادات کے تحفظ اور ان کی آبائی زمینوں کو بچانے کے لیے اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:اداکارہ کریتی سینن نے انجینئرنگ چھوڑ کر اداکاری میں قدم رکھا ہے


میمورنڈم پر این ڈبلیو ایس ویلفیئر سوسائٹی کے صدر کیرو چادر نے دستخط کیے ہیں اور اس میں ایسی تصاویر بھی شامل ہیں جو تنظیم کے دعووں کی تائید کرتی ہیں۔ فی الحال ضلع انتظامیہ، اروناچل پردیش حکومت،  ہندوستانی فوج، یا وزارت دفاع نے ان الزامات کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔ای ٹی وی بھارت میمورنڈم میں کیے گئے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK