الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اراکین کےدرمیان اختلافات کے معاملے پر جاری سیاسی تنازع کے درمیان بی جے پی نے ہمیشہ کی طرح نہایت ڈھٹائی کے ساتھ الیکشن کمیشن کا دفاع کیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 10:34 AM IST | Agency | New Delhi
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اراکین کےدرمیان اختلافات کے معاملے پر جاری سیاسی تنازع کے درمیان بی جے پی نے ہمیشہ کی طرح نہایت ڈھٹائی کے ساتھ الیکشن کمیشن کا دفاع کیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اراکین کےدرمیان اختلافات کے معاملے پر جاری سیاسی تنازع کے درمیان بی جے پی نے ہمیشہ کی طرح نہایت ڈھٹائی کے ساتھ الیکشن کمیشن کا دفاع کیا ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور ترجمان سمبت پاترا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ تینوں الیکشن کمشنروں کے درمیان مختلف معاملات پر۱۴؍ مرتبہ سرکاری خط و کتابت اور تبادلۂ خیال اس بات کی علامت ہے کہ کمیشن کے اندر باقاعدہ غوروفکر کا عمل جاری رہتا ہے۔ یہ صحت مند جمہوریت کی علامت ہے۔
سمبت پاترا نے کہا کہ اگر تینوں الیکشن کمشنر آپس میں بات چیت نہ کریں، ایک دوسرے سے آراءکا تبادلہ نہ کریں اور ہر معاملے میں ایک ہی رائے پر اتفاق کرلیں تو اپوزیشن اسے آمریت قرار دیتی ہے لیکن اب جب یہ سامنے آیا ہے کہ کمشنروں کے درمیان متعدد مرتبہ خط و کتابت ہوئی اور مختلف امور پر غور کیا گیا اور اختلاف رائے ظاہر کیا گیا تو اسے بھی سوالیہ نشان بنایا جا رہا ہے۔
پاترا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری وضاحت میں اس پورے عمل کا ذکر موجود ہے اور وہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پریس کانفرنس نہیں کررہے بلکہ کمیشن کے اپنے بیان کی بنیاد پر بات کررہے ہیں۔ ان کے مطابق تینوں کمشنروں کے درمیان اختلا رائےکو رسمی غوروفکر کے طور پر دیکھا جانا چاہئے اور اس طرح کی مشاورت صحت مند جمہوریت کی علامت ہے۔