Updated: April 25, 2026, 10:07 PM IST
| Tehran
تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے باوجود ایران کی بڑی میزائل صلاحیت اب بھی استعمال نہیں ہوئی۔ جنرل رضا طلائی نیک نے دعویٰ کیا کہ ایران نے فضائی برتری برقرار رکھی اور صرف محدود وسائل استعمال کیے۔ اس بیان کے ساتھ ہی خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
ایران کا زیر زمین میزائل کا ذخیرہ۔ تصویر: ایکس
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران کی وزارت دفاع کے ترجمان جنرل رضا طلائی نیک نے آج دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کے دوران ایران کی میزائل صلاحیتوں کا بڑا حصہ اب بھی غیر استعمال شدہ ہے۔ ترجمان کے مطابق ۴۰؍ روزہ جنگ کے دوران ایران نے اپنی مکمل عسکری طاقت استعمال نہیں کی بلکہ صرف ایک محدود حصہ ہی بروئے کار لایا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری میزائل صلاحیتوں کا اہم حصہ ابھی بھی محفوظ ہے،‘‘ اور دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج نے پورے تنازع کے دوران اسٹریٹجک برتری برقرار رکھی۔
یہ بھی پڑھئے: پولینڈ نے غزہ فلوٹیلا حملے کی تحقیقات شروع کیں، ہند رجب فاؤنڈیشن نے خیرمقدم کیا
جنرل طلائی نیک نے مزید کہا کہ ایران نے اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں پر فضائی برتری قائم رکھی، جبکہ دشمن کے بحری جہاز ایرانی ردعمل کے بعد بحیرہ عمان سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ ان کے مطابق، ایران کی بحری حکمت عملی نے مخالف قوتوں کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مسلسل برقرار ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف عسکری محاذ پر بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر ڈالا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے، جو دنیا کی تیل سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس آبی گزرگاہ میں خلل نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے پاکستان میں امریکہ سے مذاکرات کی درخواست کی تردید کی
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو اس کے طویل مدتی اقتصادی اثرات سامنے آ سکتے ہیں، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو توانائی کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔ دوسری جانب، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں جاری فوجی اور سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ یہ پیش رفت ایک وسیع تر جغرافیائی سیاسی تناظر میں ہو رہی ہے، جہاں ایک طرف جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں، وہیں دوسری طرف میدانِ جنگ میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کی دعوے بازی بھی جاری ہے۔