Updated: April 25, 2026, 10:07 PM IST
| London
لندن میں آئندہ سماعت سے قبل ۱۳۰؍ سے زائد معروف شخصیات نے Palestine Action کی حمایت میں کھلا خط جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے پابندی کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس اقدام کے باعث دستخط کنندگان کو یو کے دہشت گردانہ ایکٹ کے تحت گرفتاری کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی حکومتی اقدامات پر تنقید کر رہی ہیں۔
یہاں کورٹ آف ایپل میں آئندہ ہفتے ہونے والی اہم سماعت سے قبل ۱۳۰؍ سے زائد اسکالرز، مصنفین اور فنکاروں نے فلسطین ایکشن کے حق میں ایک مختصر مگر طاقتور کھلا خط جاری کیا ہے۔ اس خط میں صرف سات الفاظ درج تھے: ’’ہم نسل کشی کی مخالفت کرتے ہیں، ہم فلسطین ایکشن کی حمایت کرتے ہیں‘‘، جو اس مہم کا مرکزی نعرہ بن چکا ہے۔ دستخط کنندگان میں معروف آئرش مصنفہ سیلی رونی، ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، اور موسیقار براین اینو شامل ہیں، جبکہ آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی کے متعدد پروفیسرز بھی اس میں شریک ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ اور مغربی کنارے میں بلدیاتی انتخابات، مایوسی کے باوجود فلسطینی ووٹ دینے نکلے
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں پولیس نے اس گروپ کی حمایت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق فلسطین ایکشن کو جولائی ۲۰۲۵ء میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد سے سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اگرچہ ایک عدالت نے بعد میں اس پابندی کو غیر قانونی قرار دیا، پولیس نے پھر بھی ایسے افراد کی گرفتاری دوبارہ شروع کر دی جو اس گروپ کی حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔
کوئین میری یونیورسٹی کی پروفیسر پینی گرین نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پرامن مظاہرین کو دہشت گرد قرار دینا ’’ناقابل دفاع‘‘ ہے۔یاد رہے کہ پابندی اس وقت عائد کی گئی جب گروپ کے کچھ ارکان نے ایک فوجی اڈے میں داخل ہو کر طیاروں کو نقصان پہنچایا، جسے حکام نے سنگین سیکوریٹی خلاف ورزی قرار دیا انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے برطانیہ میں احتجاج کے خلاف سخت اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ سماعت اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ آیا فلسطین ایکشن پر پابندی برقرار رہے گی یا نہیں۔ مظاہرین نے ملک بھر میں مزید مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یوکرین جنگ: روسی فوج میں شامل ۲۶؍ میں سے ۱۰؍ ہندوستانی ہلاک، حکومت کا انکشاف
یہ معاملہ برطانیہ میں آزادیٔ اظہار، قومی سلامتی اور احتجاج کے حق کے درمیان توازن پر ایک بڑی بحث کو جنم دے رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔