نل بازار میںپھل اور سبزی فروشوں کے غیر قانونی اسٹالوں کےساتھ متعدد لائسنس یافتہ دکانوں کے آگے بنائے گئے چھپرے اور چھجوں وغیرہ کو توڑا گیا۔اندھیری میں ۲۰۰ ؍ہاکروں کے خلاف ایکشن ۔بی ایم سی کے ایک اہلکار کےمطابق یہ مہم عوامی جگہ کو خالی کرانے اور سڑک کوچوڑاکرنےکیلئے شروع کی گئی ہے.
جنوبی ممبئی کےنل بازار اور مغربی مضافات کے علاقے، اندھیری ( مغرب ) میں گزشتہ ۲؍دنوںمیں ہونےوالی انہدامی کارروائی سے سیکڑوں کاروباریوںکو نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔۲ ؍ دن سے جاری انہدامی کارروائی سے فٹ پاتھ اور سڑک پر دھندہ کرنےوالے پریشان ہیں۔ نل بازار میںپھل اور سبزی فروشوں کے غیر قانونی اسٹالوں کےساتھ متعدد لائسنس یافتہ دکانوں کے آگے بنائے گئے چھپرے اور چھجوں وغیرہ کو توڑا گیا اور سنیچر کو سٹرک اور فٹ پاتھ پر اسٹال لگانے والوں کا مال ضبط کیا گیا۔ اسی طرح اندھیری میں ۲۰۰ ؍ہاکروں کیخلاف ایکشن لیا گیا ۔ ’نل بازار فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل اسوسی ایشن‘ کے صدر علی نبی قریشی نے اس نمائندہ کوبتایاکہ ’’گزشتہ ۲؍ دنوںسےیہاں کےدکاندار بی ایم سی کے انہدامی کارروائی سے پریشان ہیں۔ جمعہ کو بی ایم سی کے انہدامی دستے نے بلڈوزر سےانہدامی کارروائی کی تھی ۔ اس دوران غیر قانونی پھیری اوراسٹال والوں کے علاوہ لائسنس یافتہ دکانوں کے آگے بنائے گئے چھپرے اور چھجوں وغیرہ کو توڑاگیا جس کی وجہ سے یہاں افراتفری کا ماحول پیداہوگیاتھا۔ بی ایم سی کے اعلیٰ حکام سےکارروائی کےبارےمیں دریافت کرنےپر انہوںنے بتایاکہ یہاں کی بہت شکایتیں موصول ہورہی ہیں ، اس لئے یہ کارروائی کی گئی ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: این سی پی کے انضمام کا فیصلہ نئی قیادت کرے گی : شردپوار
علی نبی قریشی کےمطابق ’’ جمعہ کےعلاوہ سنیچر کی صبح بھی بی ایم سی کاانہدامی دستہ اپنی ریگولر گاڑیو ںکے ساتھ آکر ،جن پھیری اور اسٹال والوںنےفٹ پاتھ اورسڑک پر دھندہ لگایا تھا،ان کےمال کو ضبط کرلیا۔ بی ایم سی کی کارروائی سے یہاں کے کاروباری اُلجھن میں مبتلاہیں ۔ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہےکہ وہ دھندہ کیسے کریں؟ یہاں برسوں سے لوگ دھندہ کر رہےہیں چنانچہ بی ایم سی اور شکایت کنندگان کو سمجھنا چاہئے ،ان کی روزی روٹی کایہی ذریعہ ہے۔ ‘‘
نل بازار کےعلاوہ اندھیری (مغرب ) میں جمعہ کو ہونےوالی انہدامی کارروائی میں تقریباً ۲۰۰؍ غیر قانونی پھیری والوں کو یہاں سے ہٹایاگیا۔ پچھلے ۳؍ مہینوں میں یہ دوسری بار ہے جب شہری حکام نے ممبئی میں غیر قانونی ہاکروں کے خلاف ایسی کارروائی کی ہے۔ اس سے پہلے، نومبر میں، بی ایم سی نے تقریباً ۱۰۰؍غیر قانونی ہاکروں کو ہٹایاتھا جو جنوبی ممبئی کے قلابہ علاقے میں عوامی مقامات پر دھندہ کر رہے تھے۔
بی ایم سی کے ایک اہلکار نےبتایاکہ ’’یہ مہم عوامی جگہ کو خالی کرانے اور اندھیری مغرب کی سڑک کوچوڑاکرنےکیلئے شروع کی گئی ہے۔ حکام نے ایسے غیر قانونی دکانداروں کی نشاندہی کی تھی جنہوں نے ا سٹال لگائے تھے ۔جمعہ کو ان سٹالوں کو ہٹا دیا گیا ۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: کانگریس کے نظریات کو زمینی سطح تک لے جانے کیلئے ’ٹیلنٹ ہنٹ‘ مہم
ایک اور اہلکار نے کہا کہ’’ یہ مہم فی الحال جاری رہے گی۔ہمیں محکمہ ٹریفک کی طرف سے شکایات موصول ہوئیں کہ پھیری والوں کی موجودگی سے سڑک کی چوڑائی کم ہو گئی ہے جو پیدل چلنے والوں کے ساتھ موٹرسائیکلوں کیلئے بھی سنگین خطرہ ہے۔ چونکہ بیسٹ کی بسوں جیسی بھاری گاڑیاں ان سڑکوں پر چلتی ہیں، اس لئے فٹ پاتھ اور سڑکوںکی چوڑائی کو باقی رکھنے کیلئے ہاکروں کو ہٹانا ضروری ہے۔‘‘
خیال رہےکہ گزشتہ سال اپریل میں، بامبے ہائی کورٹ نے بی ایم سی کو ہدایت دی تھی کہ وہ تمام ہاکروں کو بے دخل کر دیں جو لائسنس کے بغیر دھندہ کر رہے ہیں۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر بی ایم سی نے اونچائی والے علاقوں کا انتخاب کیا ہے، جیسے کہ ریلوے اسٹیشنوں کے باہر کے علاقے، اہم ٹریفک جنکشن اور کاروباری علاقے جہاں سے غیر قانونی ہاکروں کو ہٹایا جائے گا۔