Updated: September 28, 2026, 9:04 PM IST
| New Delhi
لواسا نے زور دیا کہ اس بات کا حتمی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ آیا اختلافِ رائے تھا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ دونوں الیکشن کمشنرز کے خطوط کا کیا بنا اور انہیں کس طرح نمٹایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر دو افراد کا مؤقف یکساں تھا اور چیف الیکشن کمشنر نے اس کے برعکس کچھ کیا، تو پھر وہ [سی ای سی] خود اختلاف کرنے والے بن جاتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی غیر قانونی کام کیا گیا ہے تو اس کا احتساب طے ہونا چاہئے۔
اشوک لواسا۔ تصویر: آئی این این
سابق الیکشن کمشنر اشوک لواسا نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی الیکشن کمیشن کو اپنے طریقہ کار پر اٹھنے والے سوالات کے حوالے سے ”مکمل حقائق کے ساتھ کھل کر سامنے آنا چاہئے“ اور انتخابی فہرستوں کے خصوصی جامع جائزے (Special Intensive Revision - SIR) کے تیسرے مرحلے کو ناقص اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دینا چاہئے۔ ’دی ٹیلی گراف آن لائن‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیشن کو ”ایس آئی آر سے قبل والی انتخابی فہرستوں کی طرف واپس لوٹ جانا چاہئے۔“
واضح رہے کہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ایس آئی آر کے دوران کئے گئے فیصلوں پر بار بار اعتراضات اٹھائے، جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ کمیشن نے اب تک منتخب معلومات افشا کرکے اور بیانات جاری کرکے جواب دیا ہے اور سنیچر کو چیف الیکشن کمشنر کی دونوں کمشنرز کے ہمراہ ایک تصویر جاری کی جس کے ساتھ ووٹرز کیلئے سازگار اقدامات کے اعلانات کئے گئے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں اور لواسا کا کہنا ہے کہ اتنا کافی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اویسی نے ایس آئی آر کو پچھلے دروازہ سے این آر سی نافذ کرنے کی کوشش قراردیا
لواسا نے کہا کہ اس بات کا حتمی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ آیا اختلافِ رائے تھا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ دونوں الیکشن کمشنرز کے خطوط کا کیا بنا اور انہیں کس طرح نمٹایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ”اگر دو افراد کا مؤقف یکساں تھا اور چیف الیکشن کمشنر نے اس کے برعکس کچھ کیا، تو پھر وہ [سی ای سی] خود اختلاف کرنے والے بن جاتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی غیر قانونی کام کیا گیا ہے تو اس کا احتساب طے ہونا چاہئے۔
لواسا نے بنگال میں ۱۶ لاکھ ووٹرز کو شامل کئے جانے کے خلاف دائر اپیلوں کو ”معمہ“ قرار دیا اور نشاندہی کی کہ کسی بھی ریاست میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ الیکشن کمیشن نے ۱۶ ستمبر کو ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیریک اوبرائن کو بتایا تھا کہ بنگال میں موصول ہونے والی ۳۸ لاکھ ۳۱ ہزار ۲۴۹ اپیلوں میں سے تقریباً ۲۲ لاکھ ووٹرز کے اخراج کے خلاف تھیں اور ۱۶ لاکھ سے کچھ زیادہ شمولیت کے خلاف تھیں، لیکن کمیشن نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ اپیلیں کس نے دائر کیں۔ ”منطقی تضاد“ کی بنیاد پر نشان زد کئے گئے ۶۰ لاکھ ووٹرز میں سے تقریباً ۲۷ لاکھ ووٹرز کو فہرست سے خارج کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ میں کئی بدعنوان جج رہے جنہوں نے نظام انصاف کو نقصان پہنچایا: دُشینت دَوے
فارم ۶ پر بات کرتے ہوئے لواسا نے کہا کہ کمیشن خود سے قوانین تبدیل نہیں کر سکتا، آئین کے آرٹیکل ۳۲۶ کے تحت ووٹر کی اہلیت کا انحصار والدین یا دادا دادی کے ووٹ ڈالنے کی تاریخ پر نہیں ہوتا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے بہار ایس آئی آر کے دوران فارم ۶ کے حلف نامے کو برقرار رکھا تھا لیکن جولائی کی اس تبدیلی پر کوئی فیصلہ نہیں دیا جس میں والدین کی تفصیلات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے گوا کے معاملے کی طرف بھی توجہ دلائی جہاں الیکٹورل رجسٹریشن افسران کی جانب سے اہل قرار دیئے گئے ۹۷ ووٹرز فروری کے بعد سے اب تک فہرست سے باہر ہیں۔