سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ہریانہ حکومت نے کہا کہ وہ اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کے خلاف آپریشن سندور پر سوشل میڈیا تبصروں کے معاملے میں مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دے گی، جس کے بعد عدالت نے فوجداری کارروائی ختم کر دی۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 10:02 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ہریانہ حکومت نے کہا کہ وہ اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کے خلاف آپریشن سندور پر سوشل میڈیا تبصروں کے معاملے میں مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دے گی، جس کے بعد عدالت نے فوجداری کارروائی ختم کر دی۔
ہندوستان کی سپریم کورٹ میں پیر کو اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب ہریانہ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ وہ ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دے گی۔ یہ کیس پروفیسر کے اس سوشل میڈیا تبصرے سے متعلق تھا جس میں انہوں نے آپریشن سندور کے حوالے سے ہونے والی پریس بریفنگ پر اپنی رائے دی تھی۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے اس معاملے میں استغاثہ کی منظوری نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے ’’ایک بار کی رعایت‘‘ قرار دیا۔
اس بیان کے بعد چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ باغچی پر مشتمل بنچ نے پروفیسر علی خان محمود آباد کے خلاف جاری فوجداری کارروائی کو منسوخ کر دیا۔ تاہم عدالت نے انہیں آئندہ ایسے معاملات میں زیادہ احتیاط برتنے کی ہدایت بھی دی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا:’’کبھی کبھی بین السطور باتیں مزید مسائل پیدا کر دیتی ہیں۔ بعض حالات اتنے حساس ہوتے ہیں کہ ہم سب کو محتاط رہنا پڑتا ہے۔ درخواست گزار ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ مستقبل میں احتیاط سے کام لیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ادیشہ: اسپتال میں بھیانک آتشزدگی، ۱۰؍مریض ہلاک، لواحقین کیلئے معاوضے کا اعلان
پروفیسر علی خان محمود آباد اشوکا یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے سربراہ ہیں۔ انہیں مئی میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں انہوں نے ہندوتوا سے وابستہ بعض مبصرین کے رویے پر تنقید کی تھی۔ اپنے پوسٹ میں انہوں نے کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ کی پریس بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ’’آپٹکس‘‘ یعنی علامتی پہلو اہم ہیں، لیکن اگر یہ زمینی حقیقت میں تبدیل نہ ہوں تو یہ محض منافقت بن کر رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے لکھا تھا کہ جو لوگ فوجی افسران کی تعریف کر رہے ہیں انہیں ہجومی تشدد، من مانی بلڈوزر کارروائیوں اور مبینہ نفرت انگیز سیاست کا شکار ہونے والے افراد کے لیے بھی اسی شدت سے آواز اٹھانی چاہیے تاکہ تمام شہریوں کو یکساں تحفظ حاصل ہو سکے۔
اس بیان کے بعد ان کے خلاف بی جے پی کے یوا مورچہ کے ریاستی جنرل سکریٹری یوگیش جتیری کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ شکایت میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی ان دفعات کا حوالہ دیا گیا تھا جو فرقہ وارانہ دشمنی کو فروغ دینے، قومی یکجہتی کو متاثر کرنے اور ملک کی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق ہیں۔ یاد رہے کہ پروفیسر محمود آباد کو ۱۸؍ مئی کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ تاہم تین دن بعد سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: پونے: نوجوانوں کی نجی افطار تقریب میں شر پسندوں کی مداخلت، ہتھیاروں سے حملہ
اس وقت عدالت نے تحقیقات روکنے سے انکار کیا تھا اور ہریانہ پولیس کے سربراہ کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیں تاکہ پروفیسر کے بیان کے اصل مفہوم کا جائزہ لیا جا سکے۔ اب ہریانہ حکومت کی جانب سے استغاثہ کی منظوری نہ دینے کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے میں فوجداری کارروائی ختم کر دی ہے، جس سے اس کیس کا قانونی باب عملاً بند ہو گیا ہے۔