Inquilab Logo Happiest Places to Work

جموں کشمیر: اونتی پورہ میں کسانوں کے احتجاج میں پی ڈی پی اراکین بھی شامل

Updated: June 09, 2026, 12:33 PM IST | Agency | Srinagar

سرکاری زمین پرکسانوں کو کاشتکاری سے روکنےکے معاملے نے طول پکڑا ،پی ڈی پی ایم ایل اے وحید الرحمٰن پرہ کا کسانوں کےساتھ اظہار یکجہتی ،کھیت میںٹریکٹرچلایا ۔

Assembly Member Waheedur Rehman Para Driving A Tractor.Photo;iNN
رکن اسمبلی وحیدالرحمٰن پرہ ٹریکٹر چلاتے ہوئے- تصویر:آئی این این
جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ علاقے میں سرکاری اراضی قرار دے کر کسانوں کو زیرِ کاشت دھان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ جمعہ کو محکمہ مالیات کی کارروائی کے بعد متاثرہ دیہاتوں کے سیکڑوں کسانوں نے احتجاج شروع کیا تھا۔ اس دوران بروزپیرپلوامہ سےپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ اور رکن اسمبلی ترال رفیق احمد نائک نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔محکمہ مالیات نے جمعہ کو ضلع پلوامہ کے ڈانگر پورہ، گوری پورہ، پڈگام پورہ اور حاجی بل دیہات میں کسانوں کو دھان کی کاشت سے روک دیا تھا۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ زمین سرکاری اراضی ہے جبکہ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ ۶؍دہائیوں سے اس زمین پر کاشتکاری کر رہے ہیں۔
 
 
متاثرہ کسانوں کے مطابق۲۱۰۰؍ کنال(ایک کنال= ۵۴۴۵؍ مربع فٹ) سے زائد اراضی گزشتہ ۶۰؍ سال سے ان کے زیر استعمال رہی ہے لیکن اچانک انہیں اس پر کاشت سے روک دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد کسانوں نے سنیچر کو اونتی پورہ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاج بھی کیا تھا۔ پیر کومتاثرہ علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کے دوران کسانوں  اورپی ڈی پی اراکین اسمبلی نے سرکار کے فیصلے کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ مظاہرین ’’ہماری زمینیں واپس کرو‘‘ اور ’’ہم کیا چاہتے، انصاف‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ وہیں مقامی ایم ایل ایز وحید الرحمن پرہ اور رفیق احمد نائک بھی احتجاج میں شامل ہوئے اور انتظامیہ کی کارروائی کو غیرمنصفانہ قرار دیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ برسوں سے کسانوں کے زیر کاشت اراضی حکومتی تحویل میں لینے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔اس موقع پر وحید الرحمن پرہ نے کسانوں کے ساتھ کھیتوں میں اتر کر دھان کی بوائی کی اور اسے احتجاج کی ایک علامتی شکل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پڈگام پورہ اور ڈانگر پورہ کے کسانوں کو تقریباً ایک ہزار کنال اراضی پر کاشتکاری سے روکا جا رہا ہے حالانکہ وہ برسوں سے اس زمین پر کھیتی باڑی کرتے آرہے ہیں۔وحید پرہ نے کہا’’آج ہم کسانوں کے ساتھ ان ہی کھیتوں میں بوائی کرنے آئے ہیں۔ جو زمین خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے، اسے بلڈوزروں اور باڑوں کے ذریعے لوگوں سے چھینا نہیں جا سکتا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK