Updated: March 30, 2026, 10:10 PM IST
| New York
مغربی کنارے میں سی این این کے صحافیوں پر مبینہ اسرائیلی فوجی حملے کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ Foreign Press Association نے اسے ’’پریس کی آزادی پر براہ راست حملہ‘‘ قرار دیا، جبکہ ویڈیو فوٹیج میں صحافیوں پر بندوقیں تاننے اور ایک کیمرہ مین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے مناظر سامنے آئے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک سنجیدہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سی این این کی رپورٹنگ ٹیم پر مبینہ طور پر اسرائیلی فوجیوں نے حملہ کر دیا۔ یہ واقعہ فلسطینی گاؤں کے قریب اس وقت پیش آیا جب صحافی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور ایک بزرگ شہری پر حملے کی کوریج کر رہے تھے۔ Foreign Press Association نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی ’’غلط فہمی‘‘ نہیں بلکہ ’’پریس کی آزادی پر براہ راست حملہ‘‘ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یروشلم چرچ رسائی تنازع: عالمی دباؤ پر اسرائیل کا یوٹرن
غیرقانونی آبادکار تشدد کا کوریج
رپورٹنگ ٹیم اس وقت علاقے میں موجود تھی جب وہ ۷۵؍ سالہ فلسطینی شہری عبداللہ دراغمے پر مبینہ حملے کی تحقیقات کر رہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق، حملہ آور رات کے وقت ان کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔متاثرہ شخص کے بیٹے نے سی این این کو بتایا کہ ’’میں نے اس کی توقع نہیں کی تھی… یہ معمول کی بات نہیں ہے۔‘‘ صحافیوں کے مطابق، اس دوران اسرائیلی فوجی موقع پر موجود تھے لیکن انہوں نے مبینہ طور پر مداخلت نہیں کی، جس پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔
صحافیوں کو نشانہ کیسے بنایا گیا؟
واقعے کے ویڈیو فوٹیج، جو بعد میں سامنے آئے، میں دکھایا گیا کہ جیسے ہی اسرائیلی فورسیز کے اہلکار صحافیوں کے قریب آئے، انہوں نے فوری طور پر جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ ویڈیو میں صحافیوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’’رائفل کا نشانہ براہ راست ہم پر تھا… ہمیں زمین پر لیٹنے کا حکم دیا گیا۔‘‘ سی این این کی پروڈیوسر عبیر سلمان نے صورتحال کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحافی ہیں، تاہم فوجیوں نے ہتھیار نیچے کرنے سے انکار کر دیا اور ٹیم کو فلم بندی سے روکنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران میں اہداف تباہ، تیل اور یورینیم پر کنٹرول منصوبہ
تشدد کی شدت: کیمرہ مین پر حملہ
تصادم اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ایک اسرائیلی فوجی نے سی این این کے فوٹو جرنلسٹ سیرل تھیوفیلس کو پیچھے سے پکڑ کر ’’چوک ہولڈ‘‘ میں لے لیا، انہیں زمین پر گرایا اور ان کا کیمرہ نقصان پہنچایا۔ ایک اور فوجی کو ایک رپورٹر کا فون چھینتے ہوئے دیکھا گیا تاکہ مزید ریکارڈنگ روکی جا سکے۔ ایف پی اے نے کہا کہ ’’صحافیوں پر بندوقیں تاننا، کیمرہ مین پر جسمانی حملہ کرنا اور عملے کو حراست میں لینا ہر حد کو عبور کرنے والے اقدامات ہیں۔‘‘
اسرائیلی فوج کا ردعمل
واقعے کے بعد اسرائیلی فورسیز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نداو شوشانی نے سوشل میڈیا پر معافی جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘ انہوں نے مزید تسلیم کیا کہ فوجیوں کا رویہ ’’متوقع معیار کے مطابق نہیں تھا‘‘ اور مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا۔ تاہم، فوج نے ابھی تک اس بات پر وضاحت نہیں دی کہ آبادکاروں کے حملے کے دوران مداخلت کیوں نہیں کی گئی۔
بڑھتا ہوا رجحان: صحافیوں کے لیے خطرہ
یہ پہلا موقع نہیں جب سی این این کے عملے کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اسی ماہ ایک اور واقعے میں مشرقی یروشلم میں ایک پروڈیوسر زخمی ہو گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے واقعات ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں رپورٹنگ خود ایک خطرناک عمل بنتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حزب اللہ کے ۱۱۰۰؍ حملے، یمن سے ڈرون، کویت پر حملہ، جنگ پورے خطے میں پھیل گئی
جاری کشیدگی
اگرچہ ۲۰۲۵ء میں غزہ میں جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم مغربی کنارے میں تشدد بدستور جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق، علاقے میں آبادکاروں اور فوجی کارروائیوں کے باعث حالات مسلسل کشیدہ ہیں۔ کچھ ویڈیوز میں فوجی اہلکاروں کو انتہا پسندانہ بیانات دیتے ہوئے بھی دکھایا گیا، جس سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
عالمی تشویش میں اضافہ
یہ واقعہ نہ صرف صحافیوں کی سلامتی بلکہ آزادی صحافت کے حوالے سے بھی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ بین الاقوامی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ بغیر خوف کے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔