Updated: August 26, 2026, 1:59 PM IST
| London
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور کرکٹ کپتان عمران خان کے معاملے پر پاکستانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست نے انہیں عوامی منظرنامے سے تقریباً مٹانے کی کوشش کی۔ ایتھرٹن ان ۲۱؍ سابق بین الاقوامی کپتانوں میں شامل ہیں جنہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کے لیے انسانی سلوک، مناسب طبی سہولت اور اہل خانہ سے ملاقات کا مطالبہ کیا ہے۔
عمران خان اور مائیکل ایتھرٹن کی ایک پرانی تصویر۔ تصویر: ایکس
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے معاملے پر پاکستانی ریاست کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں عوامی زندگی سے تقریباً مٹانے کی کوشش کی گئی۔ ایتھرٹن نے یہ بات سابق انگلش کپتان ناصر حسین کے ساتھ اسکائی اسپورٹس کے کرکٹ پوڈکاسٹ میں کہی۔ ایتھرٹن نے کہا کہ ’’بنیادی بات یہ تھی کہ ریاست نے عمران کو تقریباً منظر سے مٹانے کی کوشش کی ہے، جو سوشل میڈیا کے دور میں کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ وہ اور ناصر حسین ان ۲۱؍ سابق بین الاقوامی کپتانوں میں شامل ہیں جنہوں نے عمران خان کے مناسب علاج کے لیے پاکستانی حکومت سے اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد، پاکستان: اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، ۱۵؍ نومولود جاں بحق
یہ خط اتوار کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو بھیجا گیا۔ سابق کپتانوں نے عمران خان کے لیے انسانی سلوک، مناسب طبی نگہداشت اور اہل خانہ سے ملاقات کی سہولت یقینی بنانے کی درخواست کی۔ خط میں کہا گیا کہ وہ یہ مطالبہ سیاست دانوں کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایسے سابق ساتھیوں اور حریفوں کے طور پر کررہے ہیں جن کا تعلق کرکٹ کے میدان سے جڑا رہا ہے۔ ۲۱؍ سابق کپتانوں کی اپیل اس پس منظر میں سامنے آئی جب پاکستان کی سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے ایسے طبی بورڈ کی بات کی تھی جس میں ان کے ذاتی معالجین اور ان کی بہن ڈاکٹر عُظمیٰ خان بھی شامل ہوں، جبکہ ہفتہ وار اہل خانہ سے ملاقاتیں بھی بحال کی گئی تھیں۔ سابق کپتانوں نے ان اقدامات کا خیرمقدم کیا، تاہم طبی سہولت سے متعلق مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: مراٹھی سیکھنے کا نظم دوبارہ ہوگا لیکن مدت میں توسیع نہیں
اس اپیل میں کرکٹ کی دنیا کے کئی معروف نام شامل ہیں، جن میں سابق ہندوستانی کپتان کپل دیو، سنیل گواسکر اور دلیپ وینگسرکر بھی شامل ہیں۔ کپل دیو نے بھی عمران خان کے لیے مناسب طبی سہولت اور بنیادی انسانی حقوق کی حمایت کی۔ کپل دیو نے واضح کیا کہ ان کی اپیل عمران خان کے مقدمات یا قانونی کارروائی کے بارے میں نہیں بلکہ جیل میں ان کے ساتھ انسانی سلوک اور مناسب سہولتوں سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں ملک کا قانون معلوم نہیں، یہ ٹھیک ہے، لیکن کسی بھی قیدی کو، وہ کوئی بھی ہو، انسانیت اور بنیادی سہولتیں ملنی چاہئیں۔‘‘
خیال رہے کہ عمران خان ۱۹۹۲ء میں پاکستان کو پہلی مرتبہ ون ڈے ورلڈ کپ میں جیت دلانے والے کپتان ہیں۔ وہ ۲۰۱۸ء سے ۲۰۲۲ء تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے اور ۲۰۲۳ء سے جیل میں ہیں۔ انہیں مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی جاچکی ہیں، جبکہ وہ الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ حالیہ عرصے میں عمران خان کی صحت بھی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ سابق کرکٹر رمیز راجا نے بتایا کہ عمران خان جیل میں تنہائی میں ہیں اور حال ہی میں ان کی آنکھ سے متعلق مسئلہ پیش آیا تھا، تاہم ان کے مطابق اب وہ بہتر ہیں اور اپنی مضبوط ذہنی کیفیت کے باعث حالات کا مقابلہ کررہے ہیں۔
ایتھرٹن کی تنقید کا مرکزی نکتہ عمران خان کے طبی علاج سے آگے بڑھ کر ان کی عوامی حیثیت سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں کسی مقبول سیاسی شخصیت کو عوامی منظرنامے سے مکمل طور پر غائب کرنا آسان نہیں۔ تاہم ریاست کی جانب سے عمران خان کو ’’مٹانے‘‘ کی کوشش ایتھرٹن کا مؤقف اور الزام ہے، جسے ایک ثابت شدہ سرکاری پالیسی کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔