Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسلام آباد، پاکستان: اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، ۱۵؍ نومولود جاں بحق

Updated: August 26, 2026, 1:35 PM IST | Islamabad

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کے گائنی وارڈ کی نرسری میں بدھ کی صبح آگ لگنے سے کم از کم ۱۵؍ نومولود جاں بحق ہوگئے۔ حکام کے مطابق نرسری میں ۱۶؍  بچے تھے اور صرف ایک کو زندہ بچایا جاسکا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ تقریباً صبح ۷؍ بجے ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے بعد لگی۔

The mother of the deceased newborn weeping. Picture: PTI
جاں بحق ہونے والے نومولود کی ماں روتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) میں نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم ۱۵؍ نومولود جاں بحق ہوگئے۔ واقعہ بدھ کی صبح گائنی وارڈ کی تیسری منزل پر پیش آیا، جہاں نرسری میں ۱۶؍ نومولود زیر علاج تھے۔ حکام کے مطابق صرف ایک بچے کو زندہ بچایا جاسکا۔ مقامی ذرائع کے مطابق آگ تقریباً صبح۷؍ بجے لگی۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ نرسری میں موجود ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے کے بعد آگ بھڑکی، تاہم تحقیقات مکمل ہونے تک اسے حادثے کی حتمی وجہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہیوسٹن کی آبی گزرگاہ سے ۹؍ سالوں میں ۲۰۰؍ لاشیں برآمد، سیریل کلر کا شبہ خارج

ریسکیو کارروائی کے دوران فائر فائٹرز نے تیسری منزل پر واقع نرسری تک پہنچنے کے لیے کھڑکی کا شیشہ توڑا اور اندر داخل ہوئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے نرسری سے ایک نومولود سمیت دیگر افراد کو باہر نکالا، جبکہ آگ پر قابو پالیا گیا۔ حادثے کے بعد اسپتال میں موجود بچوں کے والدین میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاندانوں نے اسپتال میں جمع ہوکر اپنے بچوں کے بارے میں معلومات اور واقعے کی وجوہ جاننے کا مطالبہ کیا۔ حکام نے لاشوں کی شناخت کے لیے فرانزک عمل شروع کیا ہے۔ 
وزیر اعظم شہباز شریف نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق حادثے کی وجوہ، اسپتال میں حفاظتی انتظامات اور ہنگامی ردعمل کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقاتی عمل شروع کردیا گیا ہے۔ ایک کثیرادارہ جاتی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں آگ کے پھیلاؤ اور ریسکیو کارروائی کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق والدین نے اسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات کی کمی کی شکایت کی، جبکہ بعض دروازوں کے بند ہونے سے ریسکیو کارروائی متاثر ہونے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ ان دعوؤں کی سرکاری تحقیقات کے ذریعے تصدیق ہونا باقی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیپال: وزیراعظم بالین شاہ کو پارلیمنٹ میں کالا چشمہ پہننے کی اجازت

اس حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے ابتدائی سرکاری اطلاعات میں ۱۴؍ نومولود کے جاں بحق ہونے کی بات بھی سامنے آئی تھی، جبکہ اسپتال حکام اور مقامی میڈیا کی بعد کی اطلاعات میں تعداد ۱۵؍ بتائی گئی۔ دستیاب تازہ رپورٹس میں ۱۶؍ بچوں میں سے ایک کے بچنے اور ۱۵؍ کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ 
واضح رہے کہ پی آئی ایم ایس اسلام آباد پاکستان کا ایک بڑا سرکاری طبی ادارہ ہے اور اس کے تحت مادر و طفل صحت مرکز سمیت متعدد طبی مراکز کام کرتے ہیں۔ نرسری میں پیش آنے والے واقعے نے اسپتالوں میں نومولود بچوں کے لیے فائر سیفٹی، ہنگامی انخلا اور حفاظتی انتظامات کے سوالات کو نمایاں کردیا ہے۔ تاہم موجودہ واقعے کے بارے میں ذمہ داری یا غفلت کا تعین تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK