Updated: August 26, 2026, 5:04 PM IST
| Dhaka
کاکس بازار میں روہنگیا مسلمانوں نے ۲۵؍ اگست کو نسل کشی یادگار دن مناتے ہوئے ۲۰۱۷ء کے سانحے میں جاں بحق افراد کو خراج عقیدت پیش کیا اور عالمی برادری سے انصاف، بنیادی انسانی حقوق اور میانمار کی ریاست رخائن میں محفوظ، رضاکارانہ اور باعزت واپسی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
میانمار سے بے دخل کیے گئے روہنگیا مسلمانوں نے ۲۵؍ اگست کو روہنگیا نسل کشی یادگار دن کے موقع پر بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں بڑے اجتماعات اور ریلیاں منعقد کیں۔ مظاہرین نے ۲۰۱۷ء کے فوجی کریک ڈاؤن میں جان سے جانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انصاف، بنیادی حقوق اور اپنے آبائی وطن میانمار کی ریاست رخائن میں محفوظ، رضاکارانہ اور باعزت واپسی کا مطالبہ کیا۔ روہنگیا برادری کے لیے ۲۵؍ اگست ایک ایسے سانحہ کی یاد دلاتا ہے جس کے نتیجے میں ۲۰۱۷ء میں لاکھوں افراد اپنے گھر، زمینیں اور روزگار چھوڑ کر بنگلہ دیش پہنچنے پر مجبور ہوئے۔ آج بھی ۱۰؍ لاکھ سے زائد روہنگیا بنگلہ دیش کے کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جہاں گنجان آبادی، محدود وسائل اور انسانی امداد میں کمی نے زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔
یادگار تقریبات کے دوران روہنگیا لیڈروں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ میانمار میں ایسی صورتحال پیدا کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں جہاں ان کی واپسی صرف کاغذی وعدہ نہ ہو بلکہ حقیقی تحفظ اور حقوق کے ساتھ ممکن ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ واپسی اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتی جب تک ان کی جان و مال، شناخت، شہریت، زمین اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت نہ دی جائے۔ روہنگیا پناہ گزینوں کی مشکلات صرف بے گھر ہونے تک محدود نہیں۔ حالیہ برسوں میں میانمار کے رخائن میں جاری لڑائی اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال نے محفوظ واپسی کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے روہنگیا کے خلاف جاری بدسلوکی اور تشدد کی نشاندہی کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عمران خان کو منظر سے مٹانے کی کوشش: مائیکل ایتھرٹن کی پاکستان حکومت پر تنقید
اس موقع پر متعدد ممالک اور یورپی یونین کے سفارتی نمائندوں نے بھی روہنگیا کے محفوظ اور باعزت وطن واپسی کے حق پر زور دیا اور انسانی امداد جاری رکھنے کی ضرورت اجاگر کی۔ روہنگیا برادری کا بنیادی پیغام واضح ہے کہ وہ مستقل پناہ گزین کی زندگی نہیں بلکہ اپنے تاریخی وطن میں امن، تحفظ، شناخت اور مساوی حقوق کے ساتھ واپسی چاہتی ہے۔ نو سال گزرنے کے باوجود نسل کشی کی یاد اور انصاف کا مطالبہ آج بھی ان کی جدوجہد کا مرکز ہے۔