مجموعی طور پر۲۳؍ افرادکے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔ معاملے کی جانچ جاری ہے اور خاطی طلبہ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 2:06 PM IST | Z A Khan | Aurangabad
مجموعی طور پر۲۳؍ افرادکے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔ معاملے کی جانچ جاری ہے اور خاطی طلبہ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اورنگ آباد ضلع کے تعلقہ کنّڑ کے جیتاپور میں واقع نیشنل سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری اسکول میں بارہویں جماعت کے انگریزی پرچے کے دوران اجتماعی نقل کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔اس معاملے میں محکمۂ تعلیم نے سخت کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر۱۹؍ افراد کو معطل کر دیا ہے۔ان میں ضلع پریشد کے۳؍ اساتذہ،۲؍ سینٹر کے انچارج اور۱۷؍ سپروائزرز کے ساتھ تفتیش اسکواڈ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس میں بعض نجی تعلیمی اداروں کے ملازمین بھی شامل ہیں۔
حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق مذکورہ امتحانی مرکز پر ۱۴؍ کمروں میں۳۷۰؍ طلبہ پرچہ دے رہے تھے۔محکمۂ ثانوی تعلیم کی افسر اشوِنی لاٹھکر نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ اجتماعی نقل کے معاملے میں قصورواروں کے خلاف معطلی کی کارروائی کی جائے گی، جبکہ طلبہ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ بورڈ کرے گا۔اس کے بعد ڈویژنل ایجوکیشن بورڈ کے صدر انیل سابلے نے بتایا کہ آج(بدھ کو) باضابطہ طور پر یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔امتحان کے دوران طلبہ کو اپنی نشست سے اٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی، تاہم سی سی ٹی وی کیمروں میں بعض طلبہ کو نقل کے لیے کمرۂ جماعت میں گھومتے ہوئے دیکھا گیا۔ اصول کے مطابق ایک بینچ پر ایک ہی طالب علم کو بیٹھنا ہوتا ہے، لیکن جیتاپور کے نیشنل جونیئر کالج میں ایک ہی بینچ پر۲؍ سے ۳؍ طلبہ نقل کرتے ہوئے پائے گئے۔ حیران کن طور پر جن سپروائزرز پر نقل روکنے کی ذمہ داری تھی، وہی طلبہ کی مدد کرتے ہوئے کیمروں میں قید ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے:رُدر فورڈ اور موتی کی شاندار کارکردگی، ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو شکست دے دی
اس معاملے میں ناظم مرکز () سمیت۲۳؍ افراد کے خلاف دیوگاؤں رنگاری پولیس تھانے میں کیس درج کیا گیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ منگل سے شروع ہونے والے بارہویں کے امتحانات کے پہلے ہی دن انگریزی کے پرچے میں یہ بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔واقعہ کے بعد جیتاپور مرکز کے تمام عملے کو فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔جن افراد کے خلاف کیس درج ہوا ہے ان میں مرکز ناظم پی سی اوہالے، سپروائزر آر کے دَرے، پی اے لہانے، سنجے کوے، ایس ٹی گھُلے، پنڈھریناتھ بھینگارے، ڈی جے گائیکواڑ، کیلاش سونونے، شراون سالوے، کچرو راٹھوڑ، بھاؤ صاحب شیلکے، ایکناتھ پیر، بھانوداس سونونے، رامداس ساتدیَوے، راؤ صاحب لہنار، نتھو نرمل، رمیش دھومال، حکم سنگھ چاندواڑے اور ایف وی چاندواڑے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کیا بورڈ آف پیس غزہ کیلئے ہے؟
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ آئندہ امتحانات مکمل شفافیت، نظم و ضبط اور قواعد کے مطابق منعقد کرنا سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔