فلسطینی مصنفہ کو مدعو نہ کرنے کے خلاف آسٹریلیا کا مشہور ’’ ایڈیلیڈ فیسٹیول‘‘ منسوخ کردیا گیا، اس سے قبل اس ادبی میلے کے ڈائریکٹر نے استعفیٰ دے دیا تھا اس کے علا۱۸۰؍ سے زائد مصنفین نے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
EPAPER
Updated: January 13, 2026, 9:56 PM IST | Canberra
فلسطینی مصنفہ کو مدعو نہ کرنے کے خلاف آسٹریلیا کا مشہور ’’ ایڈیلیڈ فیسٹیول‘‘ منسوخ کردیا گیا، اس سے قبل اس ادبی میلے کے ڈائریکٹر نے استعفیٰ دے دیا تھا اس کے علا۱۸۰؍ سے زائد مصنفین نے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
آسٹریلیا کے معروف ادبی میلے’’ ایڈیلیڈ رائٹرز ویک‘‘ کے ڈائریکٹر کے استعفیٰ اور۱۸۰؍ سے زائد مصنفین کے بائیکاٹ کے بعد یہ میلہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔فلسطینی آسٹریلوی مصنفہ کو مدعو نہ کئے جانے کے میلہ انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ڈائریکٹر نے کہا کہ’’ ایک فلسطینی - آسٹریلوی مصنفہ کو بونڈی حملے کے بعد مدعو نہ کرنے کا فیصلہ اظہار رائے کی آزادی کے لیے خطرہ ہے۔‘‘ خیال رہے کہ یہ تنازع ایک ایسے پس منظر میں سامنے آیا ہے جب ۱۴؍ دسمبر کو سڈنی کے بونڈی بیچ پر ایک یہودی ہنوکا تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے میں ۱۵؍ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں سام دشمنی کے خلاف سخت ردِعمل اور بحث شروع ہو گئی تھی۔
بعد ازاں جب میلہ بورڈ نے فلسطینی نژاد آسٹریلوی مصنفہ رندہ عبدالفتاح کو دعوت منسوخ کر دی،اس کے بعد ایڈیلیڈ رائٹرز ویک کی ڈائریکٹر لوئیس ایڈلر نے فروری میں منعقد ہونے والے اس ادبی میلے سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ میلہ بورڈ نے کہا کہ بونڈی حملے کے بعد ان کا ادبی تقریب میں شرکت کرنا ثقافتی حساسیت کے منافی ہوگا۔تاہم عبدالفتاح نے اس فیصلے کو ’’فلسطینی مخالف نسل پرستی اور سنسرشپ کی واضح مثال‘‘قرار دیا۔ جبکہ میلہ بورڈ نے بعد میں عبدالفتاح سے معذرت کی اور کہا کہ ’’یہ فیصلہ مزید تقسیم کا باعث بنا۔‘‘
واضح رہے کہ سابق نیوزی لینڈ وزیراعظم جسینڈا آرڈرن، برطانوی مصنف زیدی اسمتھ، آسٹریلوی مصنف کیتھی لیٹے سمیت ۱۸۰؍ سے زائد مصنفین نے میلے کا بائیکاٹ کیا تھا۔اس کے علاوہ ادارتی بورڈ کے اراکین نے استعفیٰ دے دیا جس کے بعد میلہ مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ میلہ انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’یہ فیصلہ آزادی اظہار کے دائرے میں قومی مکالمے کے تیزی سے تبدیل ہونے کی عکاسی ہے۔‘‘ مزید برآں وزیراعظم انتھونی البانیزی نے بونڈی ساحل پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے۱۵؍ افراد کی یاد میں۲۲؍ جنوری کو قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد وفاقی اور ریاستی حکومتوں نے نفرت انگیز تقریر کے قوانین سخت کرنے کے اقدامات شروع کیے ہیں۔