• Tue, 13 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر نے ملک میں اسلامو فوبیا اور عرب مخالف نفرت کی مذمت کی

Updated: January 13, 2026, 8:01 PM IST | Washington

وارنر نے کہا کہ وہ مذہبی امتیاز اور نفرت کی لہر پر بات کرنے کے لیے مجبور محسوس کررہے ہیں۔ اس طرح کا تعصب اب صرف مخصوص طبقات تک محدود نہیں رہا بلکہ سرکاری بیانیے اور پالیسی کے ذریعے اسے ایک معمول بنایا جا رہا ہے۔

Mark Warner. Photo: X
مارک وارنر۔ تصویر: ایکس

امریکی سینیٹر مارک وارنر نے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں مذہبی امتیاز اور نفرت پر مبنی انتہا پسندی میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت والی امریکی انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ ملک میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور عرب مخالف جذبات میں فعال طور پر حصہ لے رہی ہے۔ پیر کے دن سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے وارنر نے کہا کہ وہ مذہبی امتیاز اور نفرت کی اس لہر پر بات کرنے کے لیے مجبور محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے اس لہر کو مسلم اور عرب امریکی برادریوں کے خلاف دشمنی کا ’’دل دہلا دینے والا اور غیر امریکی‘‘ اضافہ قرار دیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس طرح کا تعصب اب صرف مخصوص طبقات تک محدود نہیں رہا بلکہ سرکاری بیانیے اور پالیسی کے ذریعے اسے ایک معمول بنایا جا رہا ہے۔

 

یہ بھی پڑھئے: ایران احتجاج: امریکہ نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی وارننگ جاری کی

وارنر نے مزید کہا کہ ’’میں آج خاص طور پر اس امتیازی سلوک کی مذمت کرنے کے لیے کھڑا ہوا ہوں جس کا سامنا ہمارے ملک کی مسلم اور عرب امریکی برادریاں کر رہی ہیں۔ بدقسمتی سے، صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے کھلے عام اسلامو فوبک امتیازی سلوک کو ہوا دی ہے اور اسے ادارہ جاتی شکل میں تبدیل کردیا ہے۔‘‘ وارنر نے مثال کے طور پر گزشتہ ماہ کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران ٹرمپ کے تبصروں کا حوالہ دیا جن میں مبینہ طور پر صدر نے صومالی جڑوں والے لوگوں کو ’’کچرا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم انہیں اپنے ملک میں نہیں چاہتے۔‘‘ وارنر نے ان تبصروں کو ’’گھناؤنا، انسانیت سوز اور غیر امریکی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کو ان تبصروں کی ’’بھرپور اور بلند آواز میں مذمت‘‘ کرنی چاہیے۔

 

یہ بھی پڑھئے: عالمی عدالت برائے انصاف میں میانمار کے خلاف روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے تاریخی کیس کا جلد آغاز
سینیٹر وارنر نے اپنے خطاب میں کانگریس پر بھی تنقید کی اور خود کانگریس کے اندر استعمال ہونے والی اشتعال انگیز زبان کی نشان دہی کی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ایک قانون ساز نے حال ہی میں اسلام کو ’’زہریلا مذہب‘‘ قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ بنیادی طور پر مغربی اقدار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ وارنر نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سماجی تقسیم کو گہرا کرتے ہیں اور نفرت انگیز کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
وارنر نے مزید کہا کہ ’’ہم سب پر، لیکن خاص طور پر ہم جیسے افراد جو عوامی عہدوں پر فائز ہیں، پر اس معاملے میں اختیار کی گئی خاموشی کو ختم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمیں اسلامو فوبیا اور عرب مخالف نفرت جہاں کہیں بھی نظر آئے، اس کی واضح اور پرعزم طریقے سے مذمت کرنی چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایڈیلیڈ فیسٹیول، آسٹریلیا: فلسطینی مصنفہ پر پابندی کیخلاف درجنوں مصنفین کا بائیکاٹ

مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کا تذکرہ کرتے ہوے وارنر نے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ وقار، مساوات اور مذہبی آزادی کی مشترکہ اقدار پر غور کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعصب کا مقابلہ صرف علامتی لمحات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام برادریوں کو امتیازی سلوک اور ناانصافی سے بچانے کے لیے اسے سال بھر کا عزم رہنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK