• Tue, 13 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان پر ٹیرف کا دباؤ بڑھا؛ ٹرمپ نے ایران کے تجارتی شراکت داروں پر ۲۵؍ فیصد ڈیوٹی عائد کردی

Updated: January 13, 2026, 6:12 PM IST | Washington/Tehran/Beijing

تازہ امریکی ٹیرف سے ہندوستان کے بڑے پیمانے پر متاثر ہونے کے امکانات محدود ہیں کیونکہ ۲۰۱۹؍ میں ایران پر امریکی پابندیوں کی دوبارہ بحالی کے بعد سے نئی دہلی-تہران کی دو طرفہ تجارت میں پہلے ہی بڑی حد تک کمی آچکی ہے۔

Donald Trump and Khamenei. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ اور خامنہ ای۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے دن، ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے تمام ممالک پر ۲۵؍ فیصد اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام سے متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں ہندوستان سمیت چین، ترکی، برازیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) شامل ہیں۔ یہ اقدام ایران میں بڑھتے ہوئے حکومت مخالف احتجاج اور تہران پر واشنگٹن کے نئے دباؤ کے درمیان سامنے آیا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس کا اطلاق ’امریکہ کے ساتھ کئے جانے والے ہر قسم کے کاروبار‘ پر ہوگا۔ انہوں نے اس حکم کو ’’حتمی اور قطعی‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد نئی دہلی کی تجارتی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ واشنگٹن کے ساتھ کسی دو طرفہ معاہدے کی عدم موجودگی میں، ہندوستان پہلے ہی مجموعی طور پر ۵۰؍ فیصد امریکی ٹیرف کا سامنا کررہا ہے۔ امریکی صدر نے ہندوستانی مصنوعات پرگزشتہ سال ۷؍ اگست کو ۲۵؍ فیصد اور ۲۷؍ اگست کو مزید ۲۵؍ فیصد ٹیرف عائد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ہم مذاکرات چاہتے ہیں لیکن جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: ایران

ایران میں احتجاج اور امریکی دباؤ

ایران کے تجارتی شراکت داروں پر ٹیرف لگانے کا یہ فیصلہ ایران کی غیر مستحکم صورتحال کے دوران سامنے آیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ میں ۲۸؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے اب ملک گیر احتجاج کا رخ اختیار کرچکے ہیں۔ مظاہرین اب ملک کی مذہبی قیادت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق، گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ایران میں ۶۴۰؍ سے زائد مظاہرین اور سیکوریٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تقریباً ۱۰؍ ہزار ۷۰۰۰؍ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 

ایرانی حکام نے اس بدامنی کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔ گزشتہ ہفتے سے ملک میں انٹرنیٹ اور موبائیل خدمات کو محدود کردیا گیا ہے۔ ٹرمپ اس سے پہلے ایرانی مظاہرین کی ہلاکت کی صورت میں فوجی مداخلت کا انتباہ دے چکے ہیں۔ وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ فضائی حملے سمیت تمام متبادل اب بھی ’’ہمارے سامنے موجود‘‘ ہیں۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ ’’باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر‘‘ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے کسی بھی تنازع کو روکنے کے لیے اپنی تیاری پر بھی زور دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران : احتجاج میں کمی ، حکومت حامی عوام سڑکوں پراُترے

ہند-ایران تجارت پر اثرات

تازہ امریکی ٹیرف سے ہندوستان کے بڑے پیمانے پر متاثر ہونے کے امکانات محدود ہیں کیونکہ ۲۰۱۹؍ میں ایران پر امریکی پابندیوں کی دوبارہ بحالی کے بعد سے نئی دہلی-تہران کی دو طرفہ تجارت میں پہلے ہی بڑی حد تک کمی آچکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ۲۰۱۹ء میں ۶ء۱۷؍ ارب ڈالر کی تجارت ہوئی تھی جو ۸۷؍ فیصد کمی کے ساتھ ۲۰۲۴ء میں ۲ء۳؍ ارب ڈالر ہوگئی ہے۔ معدنی ایندھن (تیل) کی درآمدات، جو کبھی کل تجارت کا ۹۰؍ فیصد سے زیادہ تھیں، اب اس میں ۹۹؍ فیصد کی کمی آچکی ہے۔ نئی دہلی کی ایران سے سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی درآمدات میں نامیاتی کیمیکلز، خوردنی پھل اور خشک میوہ جات کا حصہ ۸۰؍ فیصد سے زیادہ ہے۔ ہندوستان کی ایران کو برآمدات بھی ۲۰۱۹ء کے ۹ء۳؍ ارب ڈالر سے کم ہو کر ۲۰۲۴ء میں ۱ء۳؍ ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: بدترین انسانی بحران کے خلاف فلسطینیوں کا احتجاج، یو این سے مداخلت کا مطالبہ

چین کا ردعمل

چین نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر ۲۵؍ فیصد ٹیرف عائد کرنے کے امریکی فیصلے پر شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ بیجنگ نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے معاشی محاذ آرائی میں اضافے اور مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے کہا کہ بیجنگ ’’یکطرفہ پابندیوں اور ’لانگ آرم جورسڈکشن‘ (دوسرے ممالک پر اپنی مرضی مسلط کرنے) کے غلط استعمال کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ٹیرف کی جنگوں میں کسی کی جیت نہیں ہوتی۔ انہوں نے زور دیا کہ بیجنگ اپنے قانونی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ’’ضروری اقدامات‘‘ کرے گا۔

چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا ایک اہم خریدار ہے۔ ماؤ نینگ نے کہا کہ بیجنگ قومی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ایران کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور ’’اندرونی معاملات میں مداخلت اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال یا دھمکی کی مخالفت کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ چین تہران کے جوہری پروگرام اور علاقائی تناؤ سے متعلق تنازعات کو حل کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو واحد قابلِ عمل راستہ سمجھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK