بانڈی بیچ فائرنگ نے گن قوانین کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے کہ کیا موجودہ لائسنسنگ قواعد بنیاد پرست افراد کو بندوقوں تک رسائی سے روکنے کیلئے کافی ہیں۔
EPAPER
Updated: December 15, 2025, 7:59 PM IST | Canberra
بانڈی بیچ فائرنگ نے گن قوانین کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے کہ کیا موجودہ لائسنسنگ قواعد بنیاد پرست افراد کو بندوقوں تک رسائی سے روکنے کیلئے کافی ہیں۔
آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے بیان دیا کہ سڈنی کے بانڈی بیچ پر ہنوکا تقریب کے دوران ہونے والی فائرنگ کے دردناک واقعے کے بعد ملک کو گن قوانین کو مزید سخت کرنے پر غور کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ اتوار کی شام کو ہوئی اس فائرنگ میں ۱۵ افراد ہلاک اور ۴۰ سے زائد زخمی ہوئے۔ ہنوکا کی تقریبات کے پہلے دن ایک ہزار سے زیادہ لوگ جائے واردات پر جمع تھے۔ پولیس نے بتایا کہ دو مسلح افراد، جن کی شناخت نوید اکرم (۲۴) اور اس کے والد ساجد اکرم (۵۰) کے طور پر ہوئی ہے، نے ہجوم پر فائرنگ شروع کردی تھی۔ ساجد اکرم موقع پر ہی مارا گیا جبکہ نوید کو حراست میں لے کر اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام حملہ آوروں اور اسلامک اسٹیٹ گروپ کے درمیان ممکنہ تعلقات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا: شوٹنگ کے بعد سوشل میڈیا پر فیک نیوز، جشن کو مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا
فائرنگ میں قانونی طور پر حاصل کردہ ہتھیاروں کا استعمال
پولیس نے تصدیق کی کہ ساجد اکرم کو چھ آتشیں اسلحہ رکھنے کا قانونی لائسنس حاصل تھا اور تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ اس کے نام پر درج ہتھیار حملے میں استعمال ہوئے تھے۔ اس فائرنگ نے گن قوانین کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے کہ کیا موجودہ لائسنسنگ قواعد بنیاد پرست افراد کو بندوقوں تک رسائی سے روکنے کیلئے کافی ہیں۔
البانیز نے پیر کو نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”حکومت ہر ضروری کارروائی کرنے کیلئے تیار ہے۔ ہم ملک میں گن قوانین کو مزید سخت کرنے پر غور کررہے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ اصلاحات میں کسی فرد کو اسلحہ رکھنے کی اجازت کی تعداد کو محدود کرنا اور گن لائسنس کی مدت کا جائزہ لینا شامل ہو سکتا ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم نے کہا کہ”لوگ ایک عرصے میں بنیاد پرست بن سکتے ہیں۔ لائسنس مستقل نہیں ہونے چاہئیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس مسئلے کو ریاستی اور علاقائی لیڈران کے ساتھ نیشنل کابینہ کے اجلاس میں اٹھائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: سڈنی : یہودیوں پرحملہ، ۱۱؍ ہلاک ،مسلم شخص نے جان پر کھیل کر حملہ آور کو پکڑلیا
آسٹریلیا کے سخت قوانین کے مزید سخت ہونے کا امکان
آسٹریلیا میں پہلے ہی دنیا کے سب سے سخت گن قوانین نافذ ہیں، جو ۱۹۹۶ء میں پورٹ آرتھر قتل عام کے بعد متعارف کرائے گئے تھے۔ اس قتل عام میں ۳۵ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان اصلاحات میں ملک گیر گن بائی بیک، سخت لائسنسنگ تقاضے اور مخصوص قسم کے آتشیں اسلحہ پر پابندی شامل تھی، جس سے بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات میں تیزی سے کمی آئی تھی۔
تاہم، البانیز کے مطابق، بانڈی بیچ حملے نے ظاہر کیا کہ اس بات کا دوبارہ جائزہ لینے کا وقت آ گیا ہے کہ آیا فریم ورک کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم نے ایک قوم کے طور پر پہلے بھی کارروائی کی ہے، اور ہم دوبارہ ایسا کر سکتے ہیں۔“ انہوں نے کسی بھی تبدیلی کیلئے دو طرفہ حمایت حاصل کرنے کیلئے رضامندی کا اظہار کیا۔