اسرائیل نے سیکوریٹی خدشات کے تحت مسجد اقصیٰ میں عید کی نماز روک دی، فلسطینیوں نے اسے مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا جبکہ عالمی اداروں نے شدید ردعمل دیا۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 4:02 PM IST | Jerusalem
اسرائیل نے سیکوریٹی خدشات کے تحت مسجد اقصیٰ میں عید کی نماز روک دی، فلسطینیوں نے اسے مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا جبکہ عالمی اداروں نے شدید ردعمل دیا۔
اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران سیکوریٹی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں عید الفطر کی نماز پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کے نتیجے میں مقبوضہ مشرقی یروشلم میں غیر معمولی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ فلسطینیوں نے نمازیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرانے شہر کے قریب جمع ہو کر مسجد کے قریب ترین مقامات پر نماز ادا کریں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی پولیس نے رمضان کے دوران متعدد مواقع پر پرانے شہر کی دیواروں کے باہر نماز ادا کرنے والے فلسطینیوں کے خلاف لاٹھی چارج، آنسو گیس اور صوتی بموں کا استعمال کیا۔ عید سے قبل یروشلم کا پرانا شہر، جو عام طور پر ہجوم سے بھرا ہوتا ہے، اس بار سنسان رہا، جبکہ دکانیں بند رہیں اور صرف ضروری اشیاء کی محدود دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی۔
فلسطینی تاجروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان پابندیوں نے انہیں شدید معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ۱۹۶۷ء کے بعد پہلی بار رمضان کے اختتام پر مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر بند رکھا گیا، جس کے باعث سیکڑوں نمازیوں کو سڑکوں اور دروازوں کے باہر نماز ادا کرنا پڑی، کیونکہ اسرائیلی فورسز نے داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔ اسرائیلی حکام نے ۲۸؍ فروری سے ایران کے خلاف ایران اسرائیل امریکہ تنازع ۲۰۲۶ء کے تناظر میں سیکوریٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد کو بند رکھا ہے، تاہم فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مسجد اقصیٰ کے احاطے پر کنٹرول سخت کرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس احاطے کو مسلمان الحرم الشریف جبکہ یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے جانتے ہیں۔
یروشلم کے رہائشی حزن بلبل نے کہا، ’’یہ مسلمانوں کے لیے سب سے افسوسناک دن ہوگا، اور یہ ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتا ہے۔‘‘ حالیہ مہینوں میں اسرائیلی آباد کاروں کی دراندازیوں اور فلسطینیوں کی گرفتاریوں میں اضافہ بھی رپورٹ ہوا ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھی ہے۔ ادھر سابق مفتی اعظم عکرمہ صابری نے فتویٰ جاری کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ مسجد کے قریب ترین مقام پر نماز ادا کریں۔ سیکوریٹی کی بھاری موجودگی کے باعث جھڑپوں کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، اور کئی مقامات پر آنسو گیس کے استعمال کی اطلاعات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: کراچی میں تیز آندھی کیساتھ بارش، مختلف حادثات میں ۱۹؍افراد ہلاک
اس اقدام کی سخت مذمت عرب لیگ، او آئی سی اور افریقن یونین نے مشترکہ بیان میں کی، جس میں اسے ’’بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی‘‘ اور مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل ایک قابض طاقت کے طور پر ان اقدامات کی مکمل ذمہ داری اٹھاتا ہے، اور یہ صورتحال خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔ القدس یونیورسٹی کے میڈیا ڈائریکٹر خلیل عصالی نے کہا، ’’یہ فلسطینیوں کے لیے ایک تباہی ہے، نماز کے دوران بھی لوگوں کو ہٹایا جا رہا ہے۔‘‘
دوسری جانب غزہ پٹی میں انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے، جہاں جنگ کے سائے میں عید کی تیاریاں جاری ہیں۔ مسلسل بمباری اور بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کے درمیان عید غم اور محدود خوشی کا امتزاج بن چکی ہے۔ دیر البلاح میں مقیم صدیقہ عمر نے کہا، ’’عید کی خوشی ادھوری ہے، ہم سب اپنے نقصانات کے ساتھ جی رہے ہیں۔‘‘ خان یونس اور دیگر علاقوں میں بھی شہریوں نے بتایا کہ نقل و حرکت فضائی حملوں کے باعث محدود ہے، جبکہ عارضی کیمپوں میں لوگ روایتی مٹھائیاں بنا کر عید کا احساس برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگرچہ بیشتر افراد کے لیے یہ بھی ممکن نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پر امریکی انٹیلی جنس چیف کو سینیٹر زکے سخت سوالات کا سامنا
تازہ پیش رفت میں رفح بارڈر کراسنگ جزوی طور پر کھولی گئی ہے، جس سے اقوام متحدہ کے امدادی قافلوں کو محدود رسائی ملی ہے، تاہم مجموعی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عارضی جنگ بندی یا محدود ریلیف کے باوجود خوف اور عدم تحفظ برقرار ہے۔ یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذہبی، سیاسی اور انسانی بحران ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور عید جیسے موقع پر بھی خطے میں سکون میسر نہیں آ سکا۔