Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریلیا: کوئنز لینڈ میں فلسطینی حامی نعروں پر پابندی کے خلاف احتجاج میں شدت

Updated: March 07, 2026, 2:07 PM IST | Canberra

آسٹریلیا کی ریاست کوئنز لینڈ میں فلسطینی حامی نعروں پر پابندی کے خلاف احتجاج میں شدت پیدا ہوگئی ہے، لیبر پارٹی اور مسلم گروپ کا کہنا ہے کہ دریائے اردن سے بحیرہ روم تک کے نعرے پر پابندی شہری آزادی اور آزادی اظہار کے لیے خطرہ ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

آسٹریلیا کی شمال مشرقی ریاست کوئنز لینڈ میں ’’دریائے اردن سے بحیرہ روم تک‘‘ اور ’’انتفاضہ کو عالمگیر بناؤ‘‘ کے نعروں پر پابندی سے آزادی اظہار پر قدغن لگنے کے خلاف عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔یہ نعرے جمعرات کو ریاستی پارلیمان میں منظور ہونے والی قانون سازی کے تحت ممنوع قرار دیے گئے ہیں۔ ان نعروں کے استعمال پر دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔کوئنز لینڈ کی کنزرویٹو لبرل نیشنل پارٹی کے وزیر اعلیٰ ڈیوڈ کریسافلی نے کہا کہ’’ یہ قانون ملک میں یہود مخالفت کے خلاف سخت ترین قوانین‘‘ کا حصہ ہے۔تاہم، بہت سے فلسطینیوں، مسلمانوں اور فلسطینی حامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ نعرے دریائے اردن اور بحیرہ روم کی سرزمین میں فلسطینیوں کی آزادی اور مساوی حقوق کا مطالبہ ہیں۔ واضح رہے کہ یہ نعرے غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے خلاف مظاہروں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوئے ہیں۔ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن کی نشست پر موجود لیبر پارٹی نے اس بل کے خلاف ووٹ دیا اور کہا کہ یہ تبدیلیاں جلد بازی میں کی گئی ہیں اور آزادی اظہار کے لیے خطرہ ہیں۔بعد ازاں اپوزیشن لیڈر اسٹیون مائلز نے کہا کہ انہوں نے آزادی اظہار کو جرم قرار دینے والے قانون کے خلاف ووٹ دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ہیگ گروپ کا اسرائیل کے خلاف پابندیوں پر غور

کوئنز لینڈ اسلامک کونسل نے خبردار کیا کہ یہ بل شہری آزاد ی ور سیاسی اظہار کے لیے خطرہ ہے۔ کونسل نے کہا کہ بہت سے مسلمان ان نعروں کو جسمانی تشدد کی ترغیب کے طور پر نہیں بلکہ مقدس سرزمین میں انصاف، جمہوریت اور تمام شہریوں کے لیے مساوی سلوک کی اپیل سمجھتے ہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ یہ قانون سازی دسمبر میں بانڈی بیچ پر ہونے والے حملے کے بعد کی گئی ہے، اور اس میں بندوق کے قوانین میں اصلاحات بھی شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK