Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ نے سپریم کورٹ پر زور دیا کہ وہ بڑے مقدمات میں امریکی مفادات کا ساتھ دے

Updated: May 11, 2026, 9:08 PM IST | Washington

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیدائشی حق شہریت محدود کرنے سے متعلق ان کے ایگزیکٹو آرڈر کی حمایت کرے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے بعض ججوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ٹیرف پالیسی کے خلاف حالیہ عدالتی فیصلے کو ’’تباہ کن‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق عدالت کے فیصلے سے امریکہ کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ دوسری جانب شہری آزادیوں کی تنظیمیں ٹرمپ کے شہریت سے متعلق حکم کو آئین اور امریکی اقدار کے منافی قرار دے رہی ہیں۔

Donald Trump: Photo INN
ڈونالڈ ٹرمپ : تسویر آئی این این

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیدائشی حق شہریت سے متعلق ان کے متنازع ایگزیکٹو آرڈر کی حمایت کرے، جبکہ انہوں نے اپنی تجارتی پالیسیوں کے خلاف حالیہ عدالتی فیصلے پر شدید تنقید بھی کی ہے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پوسٹ میں سپریم کورٹ کے دو ججوں نیل گورسچ اور ایمی کونی بیریٹ کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عدالت کا حالیہ فیصلہ ان کی ٹیرف پالیسی کے خلاف ’’تباہ کن اقدام‘‘ تھا، جس سے امریکی معیشت کو نقصان پہنچا۔ ٹرمپ نے لکھا کہ ’’انہیں صحیح کام کرنا چاہیے، لیکن یہ بھی بالکل مناسب ہے کہ وہ اس شخص کے وفادار رہیں جس نے انہیں مقرر کیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے : ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، جوہری مقام کے قریب آنے والوں کو’تباہ‘ کرنے کا انتباہ

ان کا یہ بیان امریکہ میں عدلیہ کی آزادی سے متعلق نئی بحث کا سبب بن گیا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ کو امریکی نظام حکومت میں ایک آزاد اور مساوی ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے پہلے دن ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی طور پر یا عارضی ویزے پر مقیم افراد کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت دینے پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم نچلی عدالتوں نے امریکی آئین کی ۱۴؍ ویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے اس حکم پر عملدرآمد روک دیا۔ اس ترمیم کے مطابق امریکہ میں پیدا ہونے والا تقریباً ہر فرد امریکی شہری تصور کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑئے : شمالی کوریا: آئین میں ترمیم، کم جونگ ان کے قتل کی صورت میں جوہری حملہ لازمی

پچھلے ماہ ٹرمپ ذاتی طور پر سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران موجود رہے، جو ایک غیر معمولی قدم سمجھا گیا۔ رپورٹس کے مطابق بعض قدامت پسند جج بھی انتظامیہ کے دلائل پر شکوک کا اظہار کرتے نظر آئے۔ امریکن سول لبرٹیز یونین سمیت متعدد شہری حقوق کی تنظیموں نے ٹرمپ کی پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ’’ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر آئین، سپریم کورٹ کی دیرینہ نظیر، کانگریس کے منظور کردہ قانون اور بنیادی امریکی اقدار کے خلاف ہے۔‘‘ تنظیم نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت جون کے آخر یا جولائی کے آغاز تک اس مقدمے پر فیصلہ سنا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے : ٹرمپ کی نیتن یاہو کوایران کے یورینیم معاملے پرکوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی یقین دہانی

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں عدالت کے فروری کے فیصلے پر بھی ناراضی ظاہر کی، جس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ صدر نے دیگر ممالک پر وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے کے باعث امریکہ کو ۱۵۹؍ بلین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ٹرمپ کے مطابق حکومت کو دشمن ممالک، کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو بڑی رقوم واپس کرنا پڑیں گی۔ 

گزشتہ ماہ امریکی حکومت نے ٹرمپ دور کے محصولات سے متعلق ۱۶۶؍ بلین ڈالر سے زیادہ کی واپسی کے لیے ایک پروگرام بھی شروع کیا تھا، جس کے تحت لاکھوں شپمنٹس پر ڈیوٹی ریفنڈ دی جا سکتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی حالیہ تنقید ظاہر کرتی ہے کہ وہ عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان طاقت کے توازن کے معاملے کو اپنی سیاسی مہم کا اہم حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں سے ’’وفاداری‘‘ کی توقع امریکی عدالتی آزادی کے اصول سے متصادم ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK