Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریا: ۶۳؍سال بعد گلیشیئر پگھلنے سے کوہ پیما کا گمشدہ بیگ برآمد

Updated: August 28, 2026, 9:01 PM IST | Vienna

چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک گلیشیئر کی برف میں دبا ایک کوہ پیما کا بیگ پگھلتی برف کے ساتھ دوبارہ سطح پر آگیا۔ ۶۳؍سال بعد ملنے والے اس بیگ نے نہ صرف ماضی کی ایک حیرت انگیز داستان کو زندہ کیا بلکہ تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز کی حقیقت بھی اجاگر کردی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایک آسٹرین کوہ پیما کو ۶۳؍سال قبل گلیشیئر کی گہری دراڑ میں چھوڑا ہوا اپنا بیگ دوبارہ مل گیا۔ برف پگھلنے کے باعث طویل عرصے سے گمشدہ بیگ بالآخر سطح پر آ گیا۔ ۸۶؍ سالہ کوہ پیما نے اگست۱۹۶۳ءمیں آسٹریا کے علاقے ٹائرول میں واقع سُلزٹل فیرنر گلیشیئر پر کوہ پیمائی کے دوران ایک دراڑ میں گرنے کے بعد اپنا بیگ کھو دیا تھا۔ سی این این کے مطابق وہ اس حادثے میں محفوظ رہے، لیکن ان کا بیگ ان کے ساتھ باہر نہ آ سکا۔ ۶۳؍سال بعد ایک ہائیکر نے تقریباً۳؍ ہزار میٹر کی بلندی پر گلیشیئر سے یہ طویل عرصے سے گمشدہ سامان دریافت کیا۔ آسٹرین پولیس کے مطابق بیگ کے اندر ماضی کے دور کی کوہ پیمائی کی یادگاریں حیرت انگیز طور پر محفوظ تھیں، جن میں برف کاٹنے کا کلہاڑا، کیمرا، سیٹی اور ایک بوسیدہ فولڈر میں موجود دستاویزات شامل تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی امریکہ کو سخت دھمکی، محسن رضائی کانیتن یاہو کو جہنم بھیجنے کا انتباہ

برف میں محفوظ نام
جب پولیس کو یہ بیگ ملا تو ابتدا میں انہیں خدشہ ہوا کہ کہیں یہ سامان کئی دہائیاں قبل پیش آنے والے کسی کوہ پیمائی کے حادثے سے متعلق تو نہیں۔ دستاویزات سے اہم سراغ ملا۔ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک برف میں رہنے کے باوجود پولیس اہلکار بیگ کے مالک کا نام پڑھنے میں کامیاب ہوگئے اور بالآخر اس شخص تک پہنچ گئے۔ یوں ۱۹۶۳ء کے موسمِ گرما میں پیش آنے والی ایک خطرناک مہم کی کہانی سامنے آئی۔ وہ کوہ پیما اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ گلیشیئر عبور کر رہے تھے۔ تمام کوہ پیما رسی سے ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے تھے کہ اچانک وہ ایک گہری دراڑ میں جا گرے۔ ساتھیوں نے انہیں کھینچ کر محفوظ مقام تک پہنچا لیا۔ تاہم، خود کو ہلکا کرنے اور ریسکیو کے امکانات بہتر بنانے کیلئے انہوں نے اپنا بیگ چھوڑ دیا، جس میں ان کا سامان موجود تھا۔ بیگ گلیشیئر کی دراڑ میں ہی رہ گیا اور اگلے ۶۳؍سال تک وہیں دبا رہا۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا کے سب سے کم عمر بادشاہ اویوکا ۳۴؍ برس کی عمر میں انتقال، یوگنڈا میں سوگ

بیٹے کے ذریعے سامان واپس ملا
پولیس کی جانب سے شناخت کی تصدیق کے بعد۸۶؍ سالہ کوہ پیما سے رابطہ کیا گیا۔ خراب صحت کے باعث وہ خود اپنا دوبارہ ملنے والا سامان وصول کرنے نہیں جا سکے، چنانچہ پولیس نے یہ سامان ان کے بیٹے کے حوالے کر دیا۔ ٹائرول پولیس کے مطابق بیٹے نے اپنے والد کی اشیا واپس ملنے پر پولیس کا شکریہ ادا کیا۔ یہ حیرت انگیز واپسی ایک تشویش ناک ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث الپس اور دنیا کے دیگر علاقوں کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں ایسی اشیا اور بعض اوقات انسانی باقیات بھی برف سے باہر آ رہی ہیں جو کئی دہائیوں یا صدیوں سے برف تلے دبی تھیں۔ گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک تحقیق میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بلند سطح پر برقرار رہا تو رواں صدی کے وسط کے آس پاس دنیا بھر میں گلیشیئرز کے ختم ہونے کی رفتار سالانہ ۴؍ ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ICE کی ریکارڈ گرفتاریاں، اکثریت کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں

پگھلتے گلیشیئرز سے کیا کچھ سامنے آرہا ہے؟
آسٹرین کوہ پیما کا یہ بیگ پگھلتی برف سے سامنے آنے والی دریافتوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں ایک نیا اضافہ ہے۔ ان میں سب سے مشہور مثال ’’اوٹزی دی آئس مین‘‘ کی ہے، جس کا قدرتی طور پر محفوظ جسم۱۹۹۱ء میں الپس کے پہاڑوں میں ہائیکرز کو ملا تھا۔ اوٹزی تقریباً۵؍ ہزار ۳۰۰؍سال تک برف میں محفوظ رہا تھا۔ اس دریافت نے سائنسدانوں کو قبل از تاریخ یورپ میں انسانی زندگی کے بارے میں غیر معمولی معلومات فراہم کیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK