Updated: August 28, 2026, 3:02 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں امیگریشن کریک ڈاؤن نے ریکارڈ سطح اختیار کرلی ہے، جون میں ۴۳؍ ہزار سے زائد جبکہ جولائی میں تقریباً ۵۰؍ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا، تازہ وفاقی اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں پہلی مرتبہ گرفتار کیے گئے تارکینِ وطن میں نصف سے زیادہ ایسے افراد تھے جن کے خلاف نہ کوئی سابقہ مجرمانہ سزا تھی اور نہ ہی کوئی زیرِ التوا فوجداری مقدمہ، جبکہ انتظامیہ نے قانونی حیثیت ختم ہونے والے، پناہ کے متلاشی اور انسانی بنیادوں پر تحفظ حاصل کرنے والے افراد کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔
علامتی تصویر: آئی این این
ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امیگریشن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ماہانہ گرفتاریوں کی تعداد رواں موسمِ گرما میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ جون میں ۴۳؍ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ جولائی میں یہ تعداد بڑھ کر ۵۰؍ ہزار تک پہنچ گئی۔ تاہم گزشتہ ماہ پہلی مرتبہ، جب سے ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے، امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے گرفتار کیے گئے افراد میں نصف سے زیادہ ایسے تھے جن کے خلاف ماضی میں کوئی مجرمانہ سزا یا زیرِ التوا فوجداری مقدمہ نہیں تھا۔ وفاقی اعداد و شمار کے نئے جائزوں کے مطابق وفاقی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے والے تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی اکثریت کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں۔ حکام اب ایسے تارکینِ وطن کو زیادہ نشانہ بنا رہے ہیں جن کی قانونی حیثیت ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کے نتیجے میں ختم ہوچکی ہے یا واپس لے لی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ماضی میں پرتشدد جرائم میں سزا یافتہ تارکینِ وطن کی گرفتاریوں کا تناسب کم ہوکر ۴؍ فیصد سے بھی نیچے آگیا ہے۔ انتظامیہ نے اس کے بجائے قانونی امیگریشن کے راستے اختیار کرنے والے افراد پر توجہ مرکوز کردی ہے۔ ان میں پناہ کے متلاشی افراد، امریکی شہریوں کے ایسے شریکِ حیات شامل ہیں جو قانونی کارروائی کے دوران غیر یقینی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں، اور ایسے پناہ گزین شامل ہیں جنہیں عارضی قانونی حیثیت حاصل تھی لیکن انتظامیہ نے ان کے انسانی تحفظات ختم کردیئے، جس کے نتیجے میں انہیں ان ممالک واپس جانے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے جہاں وہ بدامنی اور خطرات سے فرار ہوکر آئے تھے۔ یہ تارکینِ وطن، بالخصوص وہ افراد جو پہلے ہی مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہوں، گرفتاری اور ملک بدری کے لیے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کیلئے قطرکےوزیر اعظم تہران پہنچے
رواں سال کے آغاز میں ICE حکام نے کانگریس کو بتایا تھا کہ ادارے کا منصوبہ ۲۰۲۶ء اور ۲۰۲۷ء کے مالی سالوں کے دوران ۱۰؍ لاکھ افراد کو ملک بدر کرنے اور کسی بھی وقت کم از کم ۹۹؍ ہزار افراد کو ICE کے حراستی مراکز میں رکھنے کا ہے۔ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے انتظامیہ نے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے ہیں۔ منصوبوں میں حراستی مراکز کی گنجائش میں بڑے پیمانے پر اضافہ اور مزید افسران کی بھرتی شامل ہے۔ سیکریٹری مارک وین مولن اپنے پیشرو کرسٹی نوم کے دور میں سامنے آنے والی مسلح اہلکاروں کی شہروں میں کارروائیوں کی متنازع تصاویر سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم موجودہ انتظامیہ کو ٹریفک اسٹاپس کے دوران ICE اہلکاروں کے ہاتھوں دو تارکینِ وطن کی ہلاکتوں اور ایسے تارکینِ وطن کی گرفتاریوں میں اضافے پر شدید جانچ پڑتال کا سامنا ہے جو برسوں سے امریکا میں رہ رہے تھے اور پہلے کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرتے تھے۔
افسران کے لیے مزید رقم
امریکی امیگریشن کونسل کے جائزہ لیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ICE نے مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کی گرفتاریوں سے توجہ ہٹائی ہے، جس کے نتیجے میں جیلوں اور حراستی مراکز میں ہونے والی ICE گرفتاریوں کا تناسب مسلسل کم ہوا ہے۔ اس کے بجائے ICE کی جانب سے ’’اَٹ لارج‘‘ گرفتاریوں کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ کارروائیاں ہیں جن میں افسران افراد کو ان کے کام کی جگہ، گھروں یا ٹریفک اسٹاپس کے دوران تلاش کرکے گرفتار کرتے ہیں۔ امریکی امیگریشن کونسل کے مطابق ICE کی مجموعی گرفتاریوں میں تقریباً ۶۳؍ فیصد گرفتاریاں ’’اَٹ لارج‘‘ کارروائیوں کے ذریعے یا ریاستی و مقامی پولیس کے تعاون سے کی گئیں۔ ان گرفتاریوں میں اکثر ریاستی اور مقامی حکام ۲۸۷؍(g) پروگرام کے تحت تعاون کرتے ہیں، جس کے ذریعے مقامی پولیس کو وفاقی امیگریشن قوانین نافذ کرنے کے اختیارات دیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نائن الیون کیس: خالد شیخ سمیت ۴؍ ملزمین کا ٹرائل۲۰۲۸ء میں ہوگا
ڈی پورٹیشن ڈیٹا پروجیکٹ کے جمع کردہ اور نیویارک ٹائمز کے جائزہ لیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ۲۸۷؍(g) پروگرام کے ذریعے ICE کی تحویل میں پہنچنے والے افراد کا تناسب اب تقریباً ۱۴؍ فیصد ہے۔ ٹائمز کے جائزے کے مطابق فلوریڈا کی پولیس نے ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ایسے کم از کم ۱۵؍ ہزار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تاہم ان پروگراموں کا اثر ان ریاستوں میں زیادہ نمایاں ہوا ہے جہاں ICE کی مستقل موجودگی نسبتاً کم ہے۔ مثال کے طور پر وائیومنگ اور ویسٹ ورجینیا میں ۲۸۷؍ (g) کے تحت ہونے والی گرفتاریاں دونوں ریاستوں میں مجموعی گرفتاریوں کے ۵۰؍ فیصد سے زیادہ تک پہنچ گئی ہیں۔
قانونی کارروائی کے انتظار میں پھنسے تارکینِ وطن
انتظامیہ بظاہر ان افراد کو ترجیحی طور پر نشانہ نہیں بنا رہی جن کے خلاف امیگریشن عدالتوں کی جانب سے حتمی ملک بدری کے احکامات جاری ہوچکے ہیں۔ اگست کے پہلے ہفتے میں ہونے والی گرفتاریوں میں تقریباً ایک چوتھائی افراد ایسے تھے جن کے خلاف حتمی ملک بدری کے احکامات موجود تھے۔ اس کے بجائے انتظامیہ ایسے افراد کو تیزی سے گرفتار کر رہی ہے جو امیگریشن کے پیچیدہ بیوروکریٹک مراحل میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ICE ایسے افراد کو گرفتار کر رہی ہے جن کی قانونی حیثیت ختم ہوچکی ہے جبکہ ان کی درخواستوں پر کارروائی جاری ہے۔ ان میں وہ تارکینِ وطن بھی شامل ہیں جنہوں نے ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد توسیع یا گرین کارڈ کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔ سابقہ انتظامیہ کے ادوار میں ایسے افراد کو قانونی کارروائی مکمل ہونے تک عموماً حراست میں نہیں لیا جاتا تھا، لیکن ٹرمپ کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم میں معمولی غلطی کو بھی، حتیٰ کہ ایسی تاخیر کو بھی جو حکومت کی اپنی طویل کارروائی کے باعث پیدا ہوئی ہو، غیر قانونی یا مجرمانہ حیثیت دی جارہی ہے۔ انتظامیہ امریکہ میں موجود تقریباً ۱۰؍ لاکھ ایسے افراد کو بھی تیزی سے ملک بدر کرنے کی کوشش کر رہی ہے جنہیں اپنے آبائی ممالک میں آفات اور تشدد سے فرار کے بعد انسانی بنیادوں پر تحفظ حاصل تھا۔
یہ بھی پڑھئے: مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ
جون میں امریکی سپریم کورٹ نے ہوم لینڈ سیکوریٹی کو ہیٹی اور شام کے شہریوں کے عارضی محفوظ حیثیت (Temporary Protected Status) کو ختم کرنے کی اجازت دی۔ دونوں ممالک سیاسی عدم استحکام اور انسانی بحرانوں سے دوچار ہیں۔ اس فیصلے کے بعد انتظامیہ کے لیے ایک درجن دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے دسیوں ہزار تارکینِ وطن کے تحفظات ختم کرنے کی راہ بھی ہموار ہوگئی۔ فیصلے کے بعد انتظامیہ کے حکام نے کہا کہ وہ تقریباً ۳؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار ہیٹی باشندوں اور تقریباً ۶؍ ہزار شامی شہریوں کو ملک بدر کرنے کا عمل شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جن کا قانونی تحفظ اب ختم کیا جاچکا ہے۔
تیسرے ممالک کے لیے ملک بدری کی پروازوں میں اضافہ
ملک بدری کی پروازوں میں بھی تیزی آرہی ہے۔ ہیومن رائٹس فرسٹ کے ICE Flight Monitor منصوبے کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں ICE کے حراستی مراکز کے درمیان اندرونِ ملک منتقلی کی پروازیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ ایک ہی ماہ میں ۶۱؍ امریکی شہروں کے درمیان ایک ہزار ۳۶۳؍ پروازیں چلائی گئیں، جنہیں تنظیم نے ’’تشویش ناک‘‘ ریکارڈ قرار دیا ہے۔ یہ کم از کم ۲۰۲۰ء کے بعد سب سے زیادہ اندرونِ ملک منتقلی کی پروازیں ہیں، جب سے مذکورہ گروپ نے ان پروازوں کی نگرانی شروع کی۔ امریکی فوجی طیاروں کے ذریعے ملک بدری کی پروازیں بھی جون میں دوبارہ شروع ہوئیں اور جولائی کے اختتام تک ہنڈوراس کے لیے کم از کم ۲۵؍ ملک بدری کی پروازیں چلائی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم ۸۹؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے
ہیومن رائٹس فرسٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ICE نے ۳۷؍ ممالک کے لیے کم از کم ۳۲۹؍ ملک بدری کی پروازیں چلائیں، جو اس سے پچھلے ماہ کے مقابلے میں ۱۴ فیصد زیادہ ہیں۔ ایسے نام نہاد ’’تیسرے ممالک‘‘ کے لیے بھی ملک بدری کی پروازیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں جہاں بھیجے جانے والے تارکینِ وطن کا ان ممالک سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ گزشتہ ماہ ہیومن رائٹس فرسٹ نے ۱۰؍ ممالک کے لیے ۱۸؍ ایسی پروازوں کا ریکارڈ مرتب کیا۔ ان میں بیلیز اور ڈومینیکا کے لیے پہلی مرتبہ پروازیں شامل تھیں، جبکہ وسطی افریقی جمہوریہ، کوسٹا ریکا، استوائی گنی، ایسواتینی، گھانا، پاناما، پیراگوئے اور سیرا لیون کے لیے بھی پروازیں چلائی گئیں۔ رواں ماہ صرف ۲۰؍ اور ۲۱؍ اگست کے ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران ہیومن رائٹس فرسٹ نے لائبیریا، استوائی گنی، کیمرون اور پیراگوئے کے لیے تیسرے ممالک کو منتقل کیے جانے والے افراد کی پروازوں کا سراغ لگایا۔ اسی دوران میکسیکن شہریوں کو گوئٹے مالا، ہنڈوراس اور کوسٹا ریکا بھیجنے والی پروازیں بھی ریکارڈ کی گئیں۔ ہیومن رائٹس فرسٹ میں پالیسی، پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کے حقوق کی ڈائریکٹر ساوی آروے نے کہا کہ تنظیم کو ’’لوگوں کے قانونی کارروائی کے حق کی سنگین خلاف ورزیوں‘‘ پر انتہائی تشویش ہے، خاص طور پر جب انہیں فوری طور پر کسی تیسرے ملک بھیج دیا جاتا ہے۔ انہوں نے ان ممالک میں پہنچنے کے بعد تارکینِ وطن کو درپیش حالات اور اس ’’حقیقی خطرے‘‘ کی بھی نشاندہی کی کہ انہیں ان ہی ممالک میں دوبارہ بھیجا جاسکتا ہے جہاں سے وہ پہلے فرار ہوکر امریکا پہنچے تھے۔