• Sun, 06 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ کی زمین اصل وارثین کے حوالے کی جائے: آسٹریائی نوبیل انعام یافتہ ادیبہ

Updated: September 06, 2026, 2:03 PM IST | Vienna

آسٹریاکی نوبیل انعام یافتہ ادیبہ ایلفریڈے یلینک نے اپنے ایک مضمون میں مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی زمین اس کے اصل وارثین ( فلسطینیوں) کے حوالے کی جائے، اس تحریر میں انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور مشرقی یروشلم میں زمینوں پر منظم قبضہ کی شدید مذمت کی ہے اور دو ریاستی حل کے بارے میں مغربی طاقتوں کی باتوں کو ایک جھوٹ قرار دیا ہے۔

Austrian Nobel laureate Elfriede Jelinek. Photo: X
آسٹریائی نوبیل انعام یافتہ ادیبہ ایلفریڈے یلینک۔ تصویر: ایکس

آسٹریائی نوبیل انعام یافتہ ادیبہ ایلفریڈے یلینک نے اپنی ذاتی ویب سائٹ پر ایک تیز و تلخ مضمون شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے ”وعدہ شدہ سرزمین میں“۔ اس تحریر میں انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور مشرقی یروشلم میں زمینوں پر منظم قبضہ کی شدید مذمت کی ہے اور دو ریاستی حل تعلق سے  مغربی طاقتوں کی باتوں کو ایک جھوٹ قرار دیا ہے۔ یلینک لکھتی ہیں کہ آبادکاریوں کی مسلسل توسیع اور زمینوں پر قبضے نے ایک قابلِ عمل اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو روز بروز ناممکن بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی برادری کی جانب سے دو ریاستی فریم ورک کا بار بار ذکر محض ایک ”خاموش جھوٹ“ ہے جو حقیقی صورتِ حال کو چھپاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی اخبار کی انوکھی تجویز، مقروض امریکیوں کے قرضے معاف کر کے انہیں ایران پر حملے کیلئے بھیج دو

مزید برآں وہ ”نسل کشی ‘‘ کے خطرے سے خبردار کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ”جہاں زمین ہی نہیں رہتی، وہاں انسان خود بے معنی ہو جاتے ہیں۔“ وہ فلسطینی کسانوں اور چرواہوں کی اپنی کھیتوں سے نسلی وابستگی کو بیرونِ ممالک سے آنے والے یہودی آبادکاروں کے مقابلے میں رکھتی ہیں، اور اس عمل کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں جس کے تحت فلسطینی کسانوں اور مویشی پالنے والوں کو ان کی زمینوں سے بےدخل کرنے سے پہلے ”مجرم“ یا ”دہشت گرد“ قرار دیا جاتا ہے۔ساتھ ہی یلینک اپنی تنقید کا رخ مغربی سیاسی بیانیے کی طرف بھی موڑتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ زمینوں کے قبضے اور آبادکاروں کے تشدد کے سامنے زبانی بیانات اور وعدے مزید کافی نہیں رہے۔ وہ یورپی یونین سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ غیر قانونی آبادکاری، زمینوں کی ضبطی اور فلسطینیوں پر حملوں کے خلاف ٹھوس پابندیاں عائد کرے۔ ان کا اصرار ہے کہ ”وعدوں کا زمانہ ختم ہو چکا ہے“ اور انصاف کا تقاضا ہے کہ زمینیں ان کے حقیقی مالکان کو واپس کی جائیں۔ وہ متنبہ کرتی ہیں کہ مغرب کی خاموشی اب کوئی قابلِ قبول متبادل نہیں رہا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK