آذربائیجان اور آرمینیا نے ہر جنگ اور ہر تنازع ختم کرنے کا مشترکہ فیصلہ کیا، ڈیوس میں پینل سیشن کے دوران آذربائیجان کے صدر کا کہنا ہے کہ باکو کو یروان کی جانب سے آرمینیا سے روس کو نقل و حمل کی سہولت فراہم کرنے کی درخواست موصول ہوئی ہے۔
EPAPER
Updated: January 22, 2026, 12:35 PM IST | Davos
آذربائیجان اور آرمینیا نے ہر جنگ اور ہر تنازع ختم کرنے کا مشترکہ فیصلہ کیا، ڈیوس میں پینل سیشن کے دوران آذربائیجان کے صدر کا کہنا ہے کہ باکو کو یروان کی جانب سے آرمینیا سے روس کو نقل و حمل کی سہولت فراہم کرنے کی درخواست موصول ہوئی ہے۔
آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے منگل کو کہا کہ ان کے ملک کی قیادت اور آرمینیا کی قیادت نے تمام تنازعات کا باب بند کرنے کا مشترکہ فیصلہ کیا ہے۔علیوف نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈائوس میں سالانہ ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے ایک پینل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’یہ (جنگ کے) اس باب کو بند کرنے اور امن کے مواقع تلاش کرنے کا آرمینیائی اور آذربائیجان کی قیادت کا مشترکہ فیصلہ تھا۔‘‘ اس پینل سیشن میں آرمینیا کے صدرفااجن خاتشا توريان نے بھی شرکت کی، جہاں علیوف نے کثیرالجہتی نظام کی موجودہ حالت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں، اپنے ممالک کے درمیان تین دہائیوں پر محیط تنازع کو حل کرنے میں بین الاقوامی اداروں کی ناکامی پر تنقید کی۔
یہ بھی پڑھئے: الشرع اور ٹرمپ کا شام کی وحدت اور استحکام کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور
تاہم انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (OSCE) سمیت متعدد قراردادیں پاس کی گئیں، لیکن کوئی بھی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا، ’’جب تک ہم نے معاملات اپنے ہاتھ میں نہیں لئے، ان میں سے کوئی بھی حقیقت نہیں بن سکی، اور ہم نے یہ کر دکھایا۔ ہم نے انصاف، بین الاقوامی قانون، اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت کو بحال کیا، اور پھر ہم نے امن حاصل کیا۔‘‘ بعد ازاں انہوں نے استدلال کیا کہ انہیں بین الاقوامی اداروں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
یوریشیا کے عالمی منظر نامے کے بارے میں،علیوف نے کہا کہ آذربائیجان نے امن قائم ہونے کے بعد آرمینیا کے ساتھ اقتصادی تعاون اور برآمدات کا آغاز کیا۔انہوں نے مزید کہا، ’’آذربائیجان نے قزاقستان اور روس سے آرمینیا کو سامان کی نقل و حمل پر تمام پابندیاں اٹھا لی ہیں، اور اب ہمیں آرمینیائی جانب سے آرمینیا سے روس کو نقل و حمل کی سہولت فراہم کرنے کی درخواست موصول ہوئی ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’لہٰذا ہم نے عملی طور پر، یکطرفہ طور پر راہداریاں کھول دی ہیں۔ ہاں، نقل و حمل (ہمسایہ ملک) جارجیا سے ہو رہی ہے، لیکن ایک دن یہ آرمینیا سے ہوگی۔ ایک دن آرمینیا براہ راست آذربائیجان سے گزرے گا، اور وہ دن زیادہ دور نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آذربائیجان -آرمینیا ،اور ترکی۔آرمینیا کے تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل ایک دوسرے کے متوازی چل رہے ہیں اور یہ ضرور ایک ساتھ اختتام پذیر ہوں گے جب ترکی اور آرمینیا، اور آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان بیک وقت میں سفارتی تعلقات قائم ہوں گے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ان عمل کے ذریعے وہ ایک وسیع جغرافیائی علاقے کو تبدیل کر رہے ہیں جو رابطے، توانائی ، سلامتی اور استحکام کے لیے بہت اہم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ’’ایک مثال قائم کرتا ہے کہ کس طرح طویل عرصے سے جاری جنگوں اور تنازعات کو شراکت داری اور تعاون میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ بندی کے ۱۰۰؍ دن: امدادی کارروائیوں میں اب بھی اسرائیلی رکاوٹیں: یو این
واضح رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا نے گزشتہ سال اگست میں وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ایک تین فریقی سربراہی اجلاس میں دہائیوں پر محیط تنازع ختم کرنے، جنگ بند کرنے، نقل و حمل کے راستے دوبارہ کھولنے اور تعلقات معمول پر لانے کے عہد کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔صدر علیوف کا یہ بیان اسی عہد پر عمل پیرا ہونے کا عملی ثبوت ہے۔