غزہ میں جنگ بندی کے ۱۰۰؍ دن مکمل ہونے کے باوجود اب تک اسرائیل امداد کاروائیوں میں رکاوٹیں ڈال رہا جس کی وجہ مزید لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی پابندیوں اور سخت موسم کی وجہ سے غزہ میں انسانی زندگی دشواریوں کا سامنا کر رہی ہے۔
EPAPER
Updated: January 20, 2026, 9:04 PM IST | Gaza
غزہ میں جنگ بندی کے ۱۰۰؍ دن مکمل ہونے کے باوجود اب تک اسرائیل امداد کاروائیوں میں رکاوٹیں ڈال رہا جس کی وجہ مزید لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی پابندیوں اور سخت موسم کی وجہ سے غزہ میں انسانی زندگی دشواریوں کا سامنا کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے ۱۰۰؍ دن گزر جانے کے باوجود غزہ میں رکاوٹوں کی وجہ سے انسانی امدادی کارروائیاں محدود ہیں۔ دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) کا حوالہ دیتے ہوئے، اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’جنگ بندی کا معاہدہ، جو ۱۰۰؍ دن کا ہندسہ عبور کر چکا ہے، برقرار رہنا چاہیے تاکہ زیادہ شہریوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جیسا کہ ہم آپ کو بتا رہے ہیں، انسانی امدادی کارروائیاں کئی رکاوٹوں کی وجہ سے متاثر ہیں، تاہم حالیہ سخت موسم نے بھی پیش رفت کو کچھ پسِ پشت ڈال دیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیویارک میں فلسطین حامی مظاہرین کو ہراساں کرنے پر بیتار یو ایس سے تصفیہ
عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی جانب سے جاری ایک بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرحان حق نے خبردار کیا ہے کہ ’’حالات کس قدر نازک ہیں، جبکہ ہر ماہ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ کھانے کے پارسل، بریڈ بنڈلس، گرم کھانا اور اسکول کا کھانا وہاں لے کر پہنچتے ہیں۔‘‘ فرحان نے مزید کہا کہ ’’ڈبلیو ایف پی نے مصر اور اردن اور صلاح الدین سڑک کے تمام راستوں سے اضافی حفاظت کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف اور اونروا کے زیر اہتمام مدافعتی نظام کو بہتر بنانے کیلئے جاری مہم کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کا مقصد ہے بچوں کو خطرناک بیماریوں سے بچایا جا سکے۔ مہم میں تقریباً ۱۷۰؍ لوگ شامل ہیں، جو ۱۳۰؍ مختلف طبی سہولیات کے ساتھ ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کراچی میں مہلوکین کی تعداد ۲۶؍ ہوگئی
مقبوضہ مغربی کنارے میں در اندازی
حق نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی قابض افواج نے الخلیل (ہیبرون) کے کچھ حصوں میں ’’ایک اندازے کے مطابق ۲۵؍ ہزار فلسطینیوں کو کرفیو میں رکھا ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے کثیر تعداد میں فوجی گاڑیوں، چھتوں پر تعینات اسنائپرس اور ۶؍ داخلی راستوں پر پابندی کا حوالہ دیا۔ کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن کے مطابق غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے ۲۰۲۵ء میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور املاک کے خلاف تقریباً ۴؍ ہزار ۷۳۲؍ حملے کئے جن میں ۱۴؍ فلسطینی ہلاک ہوئے۔ واضح ہو کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ۲۰۲۴ء کے آخر تک ۱۸۰؍ سے زائد غیر قانونی بستیوں اور ۲۵۶؍ انتظامی چوکیوں میں غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کی تعداد ۷؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار تک پہنچ گئی۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں۔