Inquilab Logo Happiest Places to Work

آذربائیجان کا اسرائیل کے آرمینی نسل کشی تسلیم کرنے کے فیصلے پر اعتراض

Updated: June 29, 2026, 10:01 PM IST | Baku

آذربائیجان نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے ۱۹۱۵ء میں آرمینی باشندوں کے قتلِ عام کو باضابطہ طور پر ’’نسل کشی‘‘ تسلیم کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے تاریخی حقائق کو سیاسی رنگ دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔ باکو نے اسرائیل سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ابھی اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کی منظوری کا بھی منتظر ہے۔

Azerbaijani Foreign Minister. Photo: INN
آذربائیجان کے وزیر خارجہ۔ تصویر: آئی این این

آذربائیجان نے پیر کو اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے جس کے تحت ۱۹۱۵ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں آرمینی باشندوں کے قتلِ عام کو باضابطہ طور پر ’’آرمینی نسل کشی‘‘ (Armenian Genocide) تسلیم کیا گیا ہے۔ آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ۱۹۱۵ء کے واقعات سے متعلق تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے اس فیصلے پر ’’شدید تشویش‘‘ رکھتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’۱۹۱۵ء کے واقعات کے بارے میں تاریخی حقائق کو مسخ کرنا اور ایک پیچیدہ تاریخی عمل کو قانونی اور سائنسی بنیادوں سے ہٹ کر سیاسی فیصلے کا موضوع بنانا ناقابل قبول ہے۔‘‘ وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے فیصلے مفاہمت اور باہمی افہام و تفہیم میں مددگار ثابت ہونے کے بجائے موجودہ اختلافات کو مزید گہرا کرتے ہیں اور جنوبی قفقاز میں پائیدار امن کے حصول کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی جنگی جرائم کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا حکم

بیان میں اسرائیلی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، جبکہ آذربائیجان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تاریخی حقائق، بین الاقوامی قانون کے احترام اور خطے میں پائیدار امن کے فروغ کے لیے اپنی مستقل پوزیشن برقرار رکھے گا۔ یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی کابینہ نے اتوار کو وزیر خارجہ گدعون ساعر کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے پہلی بار باضابطہ طور پر ۱۹۱۵ء کے واقعات کو ’’نسل کشی‘‘ تسلیم کیا۔ تاہم اس فیصلے کو حتمی قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے ابھی اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کی منظوری درکار ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون ساعر نے کابینہ کے فیصلے کو ’’اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس سانحے سے متعلق تاریخی شواہد واضح ہیں اور اس کا اعتراف کرنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: گرمی کی لہر کا قہر، ۲۴؍ گھنٹوں میں ۱۰۹؍ اموات درج

اسرائیل کا یہ فیصلہ خطے میں سفارتی سطح پر بھی ردعمل کا باعث بنا ہے۔ ترکی نے اسے ’’سیاسی محرکات پر مبنی اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اسرائیل غزہ میں اپنی کارروائیوں پر ہونے والی بین الاقوامی تنقید سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کئی دہائیوں تک ترکی کے ساتھ تعلقات کے باعث آرمینی نسل کشی کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے گریز کرتا رہا، تاہم حالیہ برسوں میں اسرائیل اور ترکی کے تعلقات میں کشیدگی کے بعد اس پالیسی میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK