فرانس میں گرمی کی شدید لہر کے سبب پیرس کی ہنگامی طبی خدمات (ایمرجنسی میڈیکل سروسیز) نے جمعہ کو ۲۴ ؍گھنٹوں کے اندر ۱۰۹ اموات درج کیں، جبکہ سال کے اسی عرصے میں اوسطاً صرف ۷؍ اموات ہوتی ہیں۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 2:07 PM IST | Paris
فرانس میں گرمی کی شدید لہر کے سبب پیرس کی ہنگامی طبی خدمات (ایمرجنسی میڈیکل سروسیز) نے جمعہ کو ۲۴ ؍گھنٹوں کے اندر ۱۰۹ اموات درج کیں، جبکہ سال کے اسی عرصے میں اوسطاً صرف ۷؍ اموات ہوتی ہیں۔
فرانس میں گرمی کی شدید لہر کے سبب پیرس کی ہنگامی طبی خدمات (ایمرجنسی میڈیکل سروسیز) نے جمعہ کو ۲۴ ؍گھنٹوں کے اندر ۱۰۹ اموات درج کیں، جبکہ فرانس میں طویل گرمی کی لہر ملک کے صحت کے نظام پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے۔ فرانس انفو کے مطابق، یہ اموات ایمرجنسی سروس کی مریضوں کے گھروں اور عوامی مقامات پر کارروائیوں کے دوران ہوئیں، جبکہ سال کے اسی عرصے میں اوسطاً صرف ۷ ؍اموات ہوتی ہیں۔ حالانکہ ان اعداد و شمار میںاسپتالوں میں گرمی کی شدت سے ہونے والی اموات شامل نہیں۔بعد ازاں فرانس انفو نے بتایا کہ ایمرجنسی سروس نے تقریباً ۳۴۰۰؍ ہنگامی کالز، ۳۰؍ دل کے دورے،درج کیے، اور ایک مریض کا علاج کیا جس کے جسم کا درجہ حرارت ۴۳؍ اعشاریہ .۷؍ ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ اس کے علاوہ پیرس کی سینٹ مارٹن کینال میں ایک شخص ڈوب کر ہلاک ہو گیا، کیونکہ اس نے مقررہ حدود سے باہر تیراکی کی۔
یہ بھی پڑھئے: سری لنکا: ڈینگو کا پھیلاؤ وبائی سطح پر پہنچ گیا، ۵۰؍ ہزار سے زائد معاملات
دریں اثناء فرانسیسی وزیرِ کھیل کا کہنا ہے کہ گرمی کی لہر شروع ہونے کے بعد سے ملک بھر میں۵۵؍ ڈوبنے کے واقعات درج ہوئے، جن میں ۶۵؍ فیصد غیر نگرانی والے مقامات پر پیش آئے۔پیرس اور پڑوسی محکموں ہاٹس-ڈی-سین، سین-سینٹ-ڈینس اور وال-ڈی-مارن کی چار ہنگامی خدمات نے گزشتہ ہفتے کالوں میں ۸۰؍ فیصد اضافہ درج کیا، جبکہ ایمرجنسی روم کے دوروں میں معمول کے دن کے مقابلے میں ۳۶؍ فیصد اورگزشتہ دن کے مقابلے میں ۸؍ فیصد اضافہ ہوا۔ اگرچہ درجہ حرارت میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے، تاہم گرمی کی لہر اب بھی صحت کی خدمات پر دباؤ ڈال رہی ہے۔چنانچہ فرانس کی قومی موسمی ایجنسی نے سنیچر کو ۳۵؍ محکموں کے لیے ریڈ ہیٹ الرٹ برقرار رکھا، جبکہ ۳۴؍ محکمے طوفان کے اورنج الرٹ پر ہیں۔ توقع ہے کہ اعلیٰ ترین الرٹ اتوار کی شام تک ختم کر دیے جائیں گے۔