Updated: July 31, 2026, 2:43 PM IST
| Islamabad
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کوئلے کی کان میں میتھین گیس کے زور دار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم ۳۴؍ کان کن جاں بحق ہو گئے، جبکہ چند مزدوروں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔ حادثہ کوئٹہ کے قریب سورنگ کے علاقے میں پیش آیا۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی (PDMA) کے مطابق امدادی ٹیمیں تقریباً ۴؍ ہزار فٹ گہرائی میں ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ حکومت نے واقعے کی تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کوئلے کی کان میں ہونے والے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق کان کنوں کی تعداد بڑھ کر ۳۴؍ ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق حادثہ کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنگ میں اس وقت پیش آیا جب کان کے اندر میتھین گیس کے جمع ہونے سے شدید دھماکہ ہوا، جس کے باعث کان کا ایک بڑا حصہ منہدم ہو گیا۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی (PDMA) کے مطابق دھماکے کے وقت متاثرہ حصے میں ۳۶؍ مزدور کام کر رہے تھے۔ امدادی ٹیموں نے اب تک ۳۴؍ لاشیں نکال لی ہیں، جبکہ باقی مزدوروں تک پہنچنے کے لیے ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی تقریباً ۴؍ ہزار فٹ گہرائی میں انتہائی مشکل حالات میں کی جا رہی ہے۔
بلوچستان کے وزیر برائے معدنیات شعیب نوشیروانی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو فی کس پانچ لاکھ پاکستانی روپے بطور معاوضہ دیے جائیں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور اگر حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی وجہ کان کے اندر میتھین گیس کا جمع ہونا بتایا جا رہا ہے، جس سے زوردار دھماکہ ہوا اور سرنگ کا بڑا حصہ بیٹھ گیا۔ کان کے مالک نے بھی مقامی میڈیا سے گفتگو میں میتھین گیس کے دھماکے کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر، اکثریت ایران پر فوجی کارروائی کے خلاف: سروے
پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئلہ کانوں میں حفاظتی انتظامات کی کمی اور گیس کی نگرانی کے مؤثر نظام کا فقدان ایسے حادثات کی بڑی وجہ ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ کان کنی کے شعبے میں حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور غفلت کے ذمہ دار افراد کا احتساب کیا جائے۔ بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے حادثات کوئی نئی بات نہیں۔ ماہرین کے مطابق صوبے کی متعدد کانوں میں ناکافی وینٹیلیشن، گیس مانیٹرنگ کے ناقص نظام اور حفاظتی آلات کی کمی کے باعث ایسے جان لیوا واقعات بار بار پیش آتے ہیں، حالانکہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک تمام متاثرہ مزدوروں کو کان سے باہر نہ نکال لیا جائے۔ ساتھ ہی حکومت نے کان کنی کے حفاظتی نظام کا ازسرِنو جائزہ لینے اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔