Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجستھان میں مساجد، درگاہوں و مدارس کے انہدام پر روک

Updated: July 18, 2026, 10:36 AM IST | Farzan Qureshi | New Delhi

سپریم کورٹ نے دو ہفتوں کی عبوری روک لگاتے ہوئے جودھپور عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت دی، مولانا محمود مدنی نے کہا: مذہبی مقامات کے تحفظ کیلئے پوری قوت سے قانونی لڑائی لڑیں گے۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

راجستھان کے سرحدی اضلاع میں جاری انہدامی کارروائی کے دوران اب تک کئی مساجد منہدم کی جاچکی ہیں اور قریب ۳۵۰ ؍مساجد کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ اطلاع کے مطابق یہ کارروائی قومی سلامتی کے تحفظ کے نام کی جارہی ہیں، لیکن الزام لگایا جارہا ہے کہ ان اضلا ع میں صرف مساجد ، درگاہیں، مدارس کو ہی نشانہ بنایا جارہاہے، جبکہ دیگر مذہب کی عبادت گاہوں پر چشم پوشی کی جارہی ہے۔ اس تعلق سے جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر ۴۰؍ متاثرین نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی، جس پر عدالت نے وقتی راحت بھی دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جوہر یونیورسٹی کے معاملے پرسیاسی و سماجی حلقوں میں یوگی سرکار کی شدید مذمت

عدالت عظمیٰ نے ان کارروائیوں پر دوہفتوں کی عبوری روک لگاتے ہوئے عرضی گزار کو جودھپور عدالت سے رجوع کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔عدالت نے اپنے۱۳؍ نومبر۲۰۲۴ء کے تاریخی فیصلے میں طے کردہ اصولوں کا بھی حوالہ دیا اور واضح کیا کہ کسی بھی انہدامی کارروائی میں قانونی طریقہ کار، قدرتی انصاف اور آئینی ضمانتوں کی مکمل پابندی ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جہاں عوامی اراضی پر غیر مجاز تجاوزات ثابت ہوں وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم ہر مقدمہ اپنے حقائق کے مطابق پرکھا جائے گا اور سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں کی روشنی میں متعلقہ ہائی کورٹ مناسب فیصلہ کرے گی۔جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے پیش سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ مکانات، مساجد، مدارس اور دیگر املاک کے خلاف مسلسل انہدامی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ سیکڑوں مذہبی و رہائشی املاک کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ کسی بھی مذہبی مقام یا شہری کی ملکیت کے خلاف کارروائی صرف آئین، قانون اور فطری انصاف کے اصولوں کے مطابق ہی کی جا سکتی ہے، نہ کہ انتظامی اختیارات کے یکطرفہ استعمال کے ذریعے۔ اس لیے اگر فوری عبوری تحفظ نہ دیا گیا تو ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔ دلائل سننے کے بعد جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلو ک ارادھے کی بنچ نے دو ہفتوں تک انہدامی کارروائی پر عبوری روک لگاتے ہوئے واضح کیا کہ اس نوعیت کے معاملات میں متنازع حقائق کا تفصیلی جائزہ متعلقہ ہائی کورٹ ہی لے سکتا ہے ۔ اسی لیے عدالت نے عرضی گزاروں کو راجستھان ہائی کورٹ، جودھپور کی ڈویژن بنچ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ ہم راجستھان ہائی کورٹ، جودھپور کی ڈویژن بنچ سے فوری رجوع کریں گے۔ جمعیۃ علماء ہند متاثرہ شہریوں، مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی مقامات کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی فورم پر پوری قوت کے ساتھ مقدمہ لڑتی رہے گی۔  ہمیں یقین ہے کہ قانون اور انصاف کی بالادستی قائم ہوگی۔جمعیۃ کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کے علاوہ سینئر وکلاء حذیفہ احمدی، نظام پاشا، طاہر حکیم اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ منصور علی خاں نے بھی مقدمے کی پیروی کی۔واضح رہے کہ۲۰؍ جون کوجمعیۃ علماء ہند کا ایک اعلیٰ سطحی وفد راجستھان کے متاثرہ سرحدی اضلاع پہنچاتھا، جس نے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا، متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی تھی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK