• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ میں غیرملکی ملازمین کے گرین کارڈ پر پابندی تلخی کا سبب

Updated: October 10, 2026, 2:06 PM IST | Agency | New Delhi

ہندوستان نےامریکی نائب صدر کی بیان بازی کو غیر ضروری اور اشتعال انگیز قرار دیا، یاد دہانی کرائی کہ ہنرمند افراد کی نقل و حرکت دونوں معیشتوں کیلئے فائدہ مند ہے۔

S Jaishankar. Photo: INN
ایس جے شنکر۔ تصویر: آئی این این

امریکہ  میں  مائیکروسافٹ  کے ساتھ ہی ٹاٹا کنسلٹنسی سروسیز، انفوسس اور وپرو سمیت ۸؍ ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں کو غیر ملکی ملازمین کیلئے گرین کارڈ کی درخواست دینے کے پروگرام سے معطل کئے جانے کے ایک دن بعد ہندوستان نے جمعہ کو کہا کہ امریکہ کے یہ اقدامات دونوں ملکوں کے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے میں مددگار نہیں ہیں۔ وزارت خارجہ نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایچ ون بی ویزا پر ملازمت کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کو ’’غیر ملکی بندھوا مزدور‘‘ قرار دینے  پر برہمی کا بھی اظہار کیا۔ وزارت نے کہا کہ ایسے الفاظ کا استعمال  توہین آمیز ہے، جن سے تاریخ کے تکلیف دہ اور نوآبادیاتی دور کی یادیں وابستہ ہوں۔

 امریکہ نے کیا فیصلہ کیا، جے ڈی وینس نے کیا کہا؟

امریکی انتظامیہ  نے دنیا کی بعض بڑی آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کو مستقل لیبر سرٹیفکیشن پروگرام، جسے پی ای آر ایم (پروگرام الیکٹرانک ریویو مینجمنٹ) بھی کہا جاتا ہے، سے معطل کر دیاہے۔ پی ای آر ایم امریکی کمپنیوں کیلئے  غیر ملکی ملازمین کو مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ دلانے کے عمل میں ایک اہم ذریعہ ہے۔ ہندوستان کی کئی آئی ٹی کمپنیاں بھی اس نظام پر انحصار کرتی ہیں اور ہندوستانی ملازمین کو امریکہ منتقل کرتی ہیں جنہیں وہاں قیام کیلئے معطل کئے گئے پروگرام کے تحت گرین کارڈ دلانے کی درخواست بھی کرتی تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک کی دولت پھر ایک ٹریلین ڈالر سے نیچے آگئی

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نےغیر ملکی ملازمین کیلئے گرین کارڈ کے حصول کو روکنےوالے فیصلے کا فدا کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنیاں امریکیوں کی جگہ غیر ملکی ملازمین کو رکھ رہی ہیں۔ انہوں نے ایسے غیر ملکی کارکنوں کو ’’فارِن اِنڈینچرڈ سرونٹس‘‘ یعنی ’’غیر ملکی بندھوا مزدور‘‘ قرار دیا اور کمپنیوں کو ’’ویزا ملز‘‘  سے تعبیر کیایعنی ایسی کمپنیاں جو بڑی تعداد میں ویزے حاصل کرنے کیلئےاس نظام کا استعمال کرتی ہیں۔

 ہندوستانی وزارت خارجہ کا جواب

  ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’’یہ  واضح ہونا چاہیے کہ ہنرمند افراد کی نقل و حرکت سے دونوں ملکوں کی معیشتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کیلئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ امریکی کمپنیوں کو جدید ترین صلاحیتوں کے حامل ماہرین اور اختراع، تحقیق، پیداواری صلاحیت، مسابقت اور روزگار پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ‘‘بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دونوں ملکوں کیلئے  باہمی فائدے کا ایک اہم شعبہ ہے اور ہندوستان کو امید ہے کہ اس عمل سے وابستہ تمام فریق اس حقیقت کو سمجھیں گے۔  جے ڈی وینس کے تبصروں پر وزارت خارجہ نے کہاکہ ’’ہم نے اس معاملے میں امریکی نائب صدر کے کچھ بیانات بھی دیکھے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس طرح کی اصطلاحات غیر مناسب ہیں اور اس حقیقت کو نظرانداز کرتی ہیں کہ امریکہ میں ہندوستانی پیشہ ور افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنرمند ہیں اور وہاں کی معیشت اور اختراعی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔‘‘

امریکہ کا فیصلہ اوراس کی تاویل
امریکہ نے۸؍بڑی آئی ٹی کمپنیوں کو غیر ملکی ملازمین کیلئےگرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل سے معطل کردیا ہے۔  
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں نے اس کا  غلط استعمال کیا  اور  امریکی شہریوں  پر غیر ملکیوں کو ترجیح دی۔
 جے ڈی وینس نے یاد دہانی کرائی کہ مائیکروسافٹ نے  ۲۵ء میں۶؍ ہزار امریکی ملازمین کو نکالا 
ان کا کہنا ہے کہ  اسی دوران اسے۶؍ہزار ۳۰۰ي ایچ ون بی ویزے اور  ۳؍ ہزار  گرین کارڈ حاصل ہوئے۔
 وینس کے مطابق کمپنی نے امریکی ملازمین کی جگہ کم اجرت پر غیر ملکیوںکو رکھا۔
 وینس کے مطابق ان کمپنیوں نے۲۰۰۹ء سے اب تک تقریباً۳۰؍ لاکھ غیر ملکی ملازمین کیلئے درخواستیں دی ہیں۔

ہندوستانی ملازمین پر کیا اثر پڑےگا
اس فیصلے سے پہلے  جاری کئے گئے ایچ ون بی ویزے خودبخود منسوخ نہیں ہوں گے۔ 
اس ویزا کےتحت امریکہ میں مقیم ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد یعنی اہل خانہ کی موجودہ امیگریشن حیثیت پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔   
البتہ متاثرہ کمپنیوں میں کام کرنے والے اہل ہندوستانی ملازمین جن کیلئے گرین کارڈ اور مستقل رہائش کی درخواست کی جاسکتی تھی وہ اب تعطل کا شکار ہوجائےگی۔ 

~کمپنیوںکو گرین کارڈ کی درخواستوں کے پروگرام سے اس وقت تک باہر رکھا جائے گا جب تک وہ امریکی ملازمین کو ترجیح دینے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔
جے ڈی وینس| نائب صدر امریکہ

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK