• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

باندرہ: نیویل ڈیسوزا گرائونڈ کو بچانے کیلئے ’ریڈ کارڈ پروٹیسٹ‘

Updated: August 24, 2026, 12:03 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

آدتیہ ٹھاکرے کی سربراہی میں منعقدہ احتجاج میں مدنپورہ کے نوجوان کھلاڑیوں، ان کے والدین اور کوچ کی شرکت ۔ گرائونڈ ملنے تک احتجاج اور قانونی جنگ جاری رکھنے کا عزم۔

Aditya Thackeray and others at a protest held to save the Neville D`Souza Football Ground. Picture: Inquilab, Shadab Khan
نیویل ڈیسوزا فٹبال گراؤنڈ کو بچانے کیلئےمنعقدہ احتجاج میں آدتیہ ٹھاکرے اور دیگر۔ تصویر: انقلاب، شاداب خان

 شیوسینا (ادھو) لیڈر آدتیہ ٹھاکرے کی سربراہی میں باندرہ میں واقع نیویل ڈیسوزا فٹبال گراؤنڈ کو بچانے کیلئے اتوار کی شام گراؤنڈ پر بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا جس میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کے علاوہ بڑی تعداد میں مختلف علاقوں کے نوجوان کھلاڑی، ان کے والدین اور کوچ شامل ہوئے۔ اس احتجاج میں شرکت کیلئے مدنپورہ سے بس کے ذریعہ مدنپورہ کے نوجوان کھلاڑی، ان کے والدین اور کوچ بھی پہنچے ہوئے تھے۔ اتوار کو منعقد کئے گئے اس احتجاج کو ’ریڈ کارڈ پروٹیسٹ‘ نام دیا گیا تھا جس میں شرکاء اپنے ساتھ لال رنگ کے کارڈ لے کر آئے تھے اور پروگرام کے اختتام پر سب نے لال کارڈ اپنے ہاتھوں میں اٹھاکر دکھایا۔ واضح رہے کہ فٹ بال کھیل کے دوران اگر کوئی کھلاڑی کوئی بڑی گڑبڑ کردیتا ہے تو ریفری اسے لال رنگ کا کارڈ دکھا کر کھیل اور میدان سے باہر کردیتا ہے۔ اسی طرز پر شرکاء نے علامتی ریڈ کارڈ حکومت کو دکھا کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا کہ اگر اس گرائونڈ کو ان سے چھین لیا گیا تو انہیں یہ حکومت نہیں چاہئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پروفیٹ فار آل مہم کے تحت میڈیکل کیمپ سے بڑی تعداد میں بچوں اور خواتین نے استفادہ کیا

احتجاج کے دوران مختلف کلبوں کے کوچ بشمول ایئر انڈیا سے وابستہ مدنپورہ کے یوسف انصاری، میونسپل کارپوریٹر راجا رہبر اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے بھی اظہار خیال کیا۔ شیوسینا (ادھو) لیڈر اور ایم ایل اے آدتیہ ٹھاکرے نے اس موقع پر تقریر کی اور ان کی باتوں کو سمجھانے کیلئے گرائونڈ کے ایک طرف ایک بڑا اسکرین لگایا گیا تھا جس پر پرزینٹیشن کے ذریعہ مختلف نقشے اورتصویریں دکھائی گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ممبئی میں واقع ۱۷؍ میدانوں کے ریزرویشن کو کھلے میدان سے بدل کر رہائشی یا تجارتی عمارتوں کی تعمیر کیلئے دے دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے ۳؍ گرائونڈ اپنے سیاسی لیڈران یا ان سے وابستہ افراد کو بالکل مفت دے دیا ہے اور ان میدانوں کو ختم کرکے ان پر تعمیراتی کام کیا جائے گا۔ ملنڈ میں واقع ایک میدان کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود اس جگہ جاکر معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ یہاں واقع میدان کے سامنے ایک جگہ موجود ہے جسے پیٹرول پمپ کی تعمیر کیلئے مختص کیا گیا ہے اس کے باوجود بی جے پی لیڈر کے کہنے پر اس پیٹرول پمپ کی جگہ پر ’گیس اسٹیشن‘ بنانے اور میدان کا ریزرویشن تبدیل کرکے اس پر پیٹرول پمپ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اگرچہ پیٹرول پمپ کیلئے اس سے بہت چھوٹی جگہ درکار ہوتی ہے، اس کے باوجود اس بڑے گرائونڈ کو پیٹرول پمپ کے نام پر ختم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیویل ڈیسوزا گرائونڈ کا اصلی رقبہ ڈھائی ہیکڑ یعنی تقریباً ۶؍ ایکڑ تھا لیکن مختلف تعمیرات اور جھوپڑ پٹی آباد ہونے کے بعد یہ میدان موجودہ شکل میں بچا ہوا ہے اور اسے بھی حکومت ختم کررہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج صبح ہی وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس ’جین زی‘ سے گفتگو کررہے تھے اور اس سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ نوجوانوں کو (موبائیل اور ٹی وی) اسکرین سے زیادہ کھیل کے میدان پر ہونا چاہئے تاہم آدتیہ ٹھاکرے نے سوال کیا کہ آپ نے میدان چھوڑا ہی کہاں ہے؟

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر سرکار بھی حرکت میں آئی، تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کیلئے ’’مشن موڈ‘‘ میں کام

 آدتیہ ٹھاکرےنے ججوں کا شکریہ اداکیا

آدتیہ ٹھاکرے نے بی ایم سی کے ذریعہ گرائونڈ کا ریزرویشن ختم کرنے کے فیصلے پر بامبے ہائی کورٹ کے ذریعہ روک لگاتے ہوئے اس میدان کو فی الحال جوں کا توں رکھنے کا حکم دینے پر ججوں کا شکریہ ادا کیا۔ البتہ انہوں نے عوام سے درخواست کی ہے کہ قانونی جنگ تو جاری رہے گی لیکن نوجوان کھلاڑی، ان کے والدین اور کوچ مستقبل میں اس میدان کو بچانے کیلئے کئے جانے والے احتجاج اور مظاہروں میں شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اب بی ایم سی کے صدر دفتر کے باہر احتجاجی دھرنا دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK