Updated: August 20, 2026, 2:02 PM IST
| Seoul
ایران کے خلاف جنگ میں جنوبی کوریا کی عدم شرکت پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دباؤ اور جنوبی کوریا۔امریکہ مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی کے فیصلے نے دونوں ملکوں کے ۷۲؍ سالہ دفاعی اتحاد کے مستقبل پر نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ اچانک سامنے آنے والے امریکی فیصلے کے بعد سیول میں دفاعی خود انحصاری، شمالی کوریا پالیسی اور واشنگٹن پر انحصار سے متعلق بحث تیز ہوگئی ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا اور امریکہ کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں کو نمایاں طور پر محدود کرنے کی ہدایت جاری کردی، جس سے سیول میں تشویش اور سیاسی بحث شروع ہوگئی۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ان مشقوں میں بڑی کمی کی جائے کیونکہ ان کا انعقاد شمالی کوریا کو ’’نامناسب اور معاندانہ‘‘ پیغام دیتا ہے۔ یہ اعلان سفارتی ذرائع کے بجائے اچانک سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آیا، جس پر جنوبی کوریا کے حکام بھی حیران رہ گئے۔ بعد ازاں دونوں ممالک کی فوجوں نے طے کیا کہ جاری مشقیں ۱۱؍ روز کے بجائے صرف پانچ روز تک ہوں گی اور متعدد میدانی تربیتی سرگرمیوں کا دائرہ بھی محدود کیا جائے گا۔ اس پیش رفت نے جنوبی کوریا میں اس خدشے کو دوبارہ زندہ کردیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ملک کو حاصل طویل عرصے سے جاری سیکوریٹی ضمانت کتنی قابلِ اعتماد ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: ہندرجب اور ۱۵؍ معاون طبی اہلکاروں کی ہلاکت کی مجرمانہ تحقیق کا اعلان
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے صورتحال کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کا اتحاد اب بھی انتہائی اہم ہے، تاہم ملک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں خود انحصاری بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ چو ہیون نے پارلیمان کو بتایا کہ جنوبی کوریا کی حکومت کو ٹرمپ کے اعلان سے پہلے کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ دوسری جانب امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں جنوبی کوریا کی عدم شرکت بھی دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ کی ایک اہم وجہ بن گئی ہے۔ ٹرمپ نے سوال اٹھایا کہ امریکہ کے تقریباً ۳۹؍ ہزار فوجی جنوبی کوریا کے دفاع کے لیے موجود ہیں تو سیول ایران کے خلاف کارروائی میں واشنگٹن کی مدد کیوں نہیں کر رہا۔ جنوبی کوریا میں اس معاملے پر رائے منقسم ہے؛ کچھ حلقے امریکہ کا ساتھ دینے کے حامی ہیں جبکہ دیگر غیر جانبداری چاہتے ہیں۔ حزب اختلاف نے صدر لی پر الزام لگایا ہے کہ ایران کے معاملے پر ٹرمپ کی درخواست مسترد کرکے انہوں نے جنوبی کوریا۔امریکہ اتحاد کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: مشی گن میں مسلم مخالف ریلی کے خلاف عوام کی مزاحمت، متعدد گرفتار
موجودہ صورتحال نے جنوبی کوریا میں دفاعی خود انحصاری اور حتیٰ کہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی پرانی بحث بھی دوبارہ چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنوبی کوریا کے عوام کو یہ محسوس ہونے لگا کہ امریکہ اس کے دفاع کے لیے پہلے جیسا پُرعزم نہیں رہا تو ملک میں اپنے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی حمایت بڑھ سکتی ہے۔ تاہم بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سیول کو فوری ردعمل دینے کے بجائے محتاط حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ماضی میں ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران بھی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ مذاکرات کے بعد امریکہ اور جنوبی کوریا نے بڑی فوجی مشقیں معطل یا محدود کی تھیں، لیکن جوہری مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ان میں سے کئی سرگرمیاں بحال کردی گئی تھیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں واشنگٹن کی شمالی کوریا سے ممکنہ دوبارہ بات چیت، ایران کی جنگ، تجارتی مذاکرات اور جنوبی کوریا کی جانب سے امریکہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری جیسے عوامل بھی تعلقات پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ تاہم سیول میں یہ امید بھی موجود ہے کہ اگر ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان دوبارہ سفارتی رابطہ قائم ہوتا ہے تو یہ جزیرہ نما کوریا میں زیادہ پائیدار امن کی جانب ایک قدم ثابت ہوسکتا ہے۔