Updated: June 05, 2026, 5:12 PM IST
| Dhaka
بنگلہ دیش نے ہندوستان پر الزام عائد کیا ہےکہ اس نے گزشتہ۲۴؍ گھنٹوں میں ، بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں کو غیر قانونی طور پر سرحد پار کرانے کی ۱۰؍ مرتبہ کوشش کی ہے، اس واقعہ کے بعد ہند بنگلہ دیش سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے،ہندوستانی حکومت پر تنقید ہو رہی ہے کہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بغیر کسی قانونی عمل کے زبردستی بنگلہ دیش بھیج دیا جاتا ہے۔
ہند بنگلہ سرحد کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس
بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (بی جی بی) نے بتایا کہ اس نے۴۰۰۰؍ کلومیٹر سے زیادہ طویل ہند-بنگلہ دیش سرحد کے مختلف حصوں پر ہندوستانی حکام کی۱۰؍ در اندازی کی کوششوں کا پتہ لگایا۔ یہ سرحد دنیا کی طویل ترین اور سب سے مشکل نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک ہے۔بی جی بی نے کہا کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو غیر قانونی طور پر سرحد پار کرکے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دو طرفہ سمجھوتوں اور بین الاقوامی سرحدی انتظامی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہر کوشش کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: بغیر خوراک اور آکسیجن کے ایورسٹ پر سات دن، لاپتا نیپالی شیرپا گائیڈ زندہ مل گیا
واضح رہے کہ یہ الزامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ہندوستان کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) غیر دستاویزی نقل مکانی کے خلاف ایک مہم چلائی ہے۔ حال ہی میں ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے قومیت کی تصدیق کے لیے۲۶۸۰؍ سے زائدمعاملات بنگلہ دیش کو بھیجے ہیں۔مغربی بنگال، آسام اور تری پورہ جیسی بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں حکام پر الزام ہے کہ وہ نام نہاد ‘غیر قانونی دراندازوں کو بنگلہ دیش میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی جی بی نے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی سرحدی سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے جھینایدہ میں جیل کی گاڑی کے ذریعے۳۰؍ سے ۳۵؍ افراد کو بنگلہ دیشی علاقے میں دھکیلنے کی کوشش کی، لیکن بی جی بی کی مزاحمت کے بعد وہ پیچھے ہٹ گئے۔اسی طرح جشور، جئے پور ہٹ، چاپائے نواں گنج، ٹھاکُر گاؤں، پنچ گڑھ، سلہٹ اور نیتروکونا میں بھی مبینہ دھکیلنے کی کوششیں درج کی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملے، ۴؍ بچوں سمیت ۹؍ افراد شہید، ۱۵؍ زخمی
دریں اثناء بی جی بی نے اپنی نگرانی اور سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔ جبکہ ڈھاکا کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی شہریوں کو زبردستی سرحد پار کرنے کے بجائے سفارتی اور قانونی طریقہ کار کے تحت واپس بھیجا جائے۔تاہم یہ معاملہ۸؍ سے ۱۱؍ جون تک نئی دہلی میں بی ایس ایف اور بی جی بی کے درمیان ہونے والے ڈائریکٹر جنرل سطح کے مذاکرات میں اہم ہوگا۔بعد ازاں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے خبردار کیا تھا کہ اگر مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت کے بعد دراندازی کے واقعات بڑھے تو ڈھاکا مناسب جواب دے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان میں اسے ‘پش بیک’ کہا جاتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش ‘پش ان’ کا الزام لگاتا ہے۔
مزید برآں انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہندوستانی حکومت پر تنقید کی ہے کہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور یہ کارروائیاں امتیازی اور غیر آئینی ہیں۔ متعدد شکایات میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے بنگالی مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دے کر سرحد پار دھکیل دیا، حالانکہ ان کے پاس درست شناختی دستاویزات موجود تھیں۔