Inquilab Logo Happiest Places to Work

بغیر خوراک اور آکسیجن کے ایورسٹ پر سات دن، لاپتا نیپالی شیرپا گائیڈ زندہ مل گیا

Updated: June 05, 2026, 10:16 AM IST | Kathmandu

دُنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر لاپتا ہونے والے نیپالی شیرپا گائیڈ دوا شیرپا کو تقریباً ایک ہفتے بعد زندہ بچا لیا گیا۔ انتہائی بلندی، شدید سردی اور خوراک و آکسیجن کے بغیر ان کی بقا کو ایک غیر معمولی اور حیران کن معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔

Dawa Sherpa is being taken to the hospital for medical examination. Photo: INN
دوا شیرپا کو طبی جانچ کیلئے اسپتال لے جایا جارہا ہے۔ تصویر: آئی این این

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر لاپتا ہونے والے ایک نیپالی شیرپا گائیڈ کو تقریباً ایک ہفتہ بعد زندہ بچا لیا گیا۔ اس دوران وہ بغیر خوراک، بوتل بند آکسیجن اور امدادی ٹیم سے کسی رابطے کے انتہائی دشوار حالات میں زندہ رہا، جو ایورسٹ کی تاریخ کی ایک غیر معمولی بقا کی کہانی سمجھی جا رہی ہے۔ ۵۲؍ سالہ دوا شیرپا ایک پولش کوہ پیما کی رہنمائی کرتے ہوئے ایورسٹ سر کرنے کی ناکام کوشش کے بعد واپسی کے دوران لاپتا ہو گئے تھے۔ انہیں آخری بار۲۹؍ مئی کو کیمپ سوم اور کیمپ چہارم کے درمیان، ۸؍ ہزار ۸۴۹؍ میٹر بلند چوٹی پر دیکھا گیا تھا۔ ان کا کلائنٹ بحفاظت بیس کیمپ واپس پہنچ گیا، لیکن دوا شیرپا واپس نہ آئے، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا گیا کہ وہ پہاڑ پر ہلاک ہو چکے ہیں۔ نیپال ماؤنٹ ایورسٹ ہائیکنگ کمپنی نے سوشل میڈیا پر لکھا:’’دوا تقریباً ایک ہفتے تک بغیر خوراک، پانی اور اضافی آکسیجن کے تنہا زندہ رہے اور خطرناک کھمبو آئس فال سے گزرے، حالانکہ سیزن ختم ہونے کے بعد وہاں سے سیڑھیاں بھی ہٹا دی گئی تھیں۔ یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ ‘‘
کھمبو آئس فال کے قریب دریافت
جمعرات کو اس وقت بڑی پیش رفت ہوئی جب ساگرماتھا پولوشن کنٹرول کمیٹی کی صفائی ٹیم نے ایورسٹ بیس کیمپ کے اوپر کھمبو آئس فال کے قریب برفانی ڈھلوانوں پر دوا شیرپا کو رینگتے ہوئے دیکھا۔ یہ کمیٹی ہر سال کوہ پیمائی کے سیزن سے پہلے رسیوں اور سیڑھیوں کی تنصیب اور بعد میں ان کی واپسی کا کام کرتی ہے۔ ٹیم سیزن کے بعد صفائی مہم میں مصروف تھی جب اسے لاپتا گائیڈ ملا۔ روئٹرز کے مطابق، کمیٹی کے رکن لاما کازی شیرپا نے بتایا کہ ٹیم نے دوا کو تلاش کرکے محفوظ مقام تک پہنچایا۔ 8K Expeditions کے پیمبا شیرپا نے اسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انہیں فوری طور پر خوراک اور پانی فراہم کیا گیا، جس کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو کے HAMS اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ 
خاندان نے تدفین کی رسومات شروع کر دی تھیں 
دوا شیرپا کے خاندان کیلئے یہ خبر اس وقت آئی جب امید تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ ان کی اہلیہ دامو شیرپا نے بتایا کہ انہیں پہلے مقامی خبروں اور فون کالز کے ذریعے معلوم ہوا کہ دوا زندہ ہیں اور پہاڑ سے نیچے لائے جا رہے ہیں۔ ان کی بیٹی میندو لہامو شیرپا نے بتایا کہ خاندان نے تو ان کی آخری رسومات کی تیاری بھی شروع کر دی تھی۔ انہوں نے کہا:’’جب ہم نے پہلی بار یہ خبر سنی تو یقین نہیں آیا کہ وہ واقعی ہمارے والد ہیں۔ اس لئے ہم نے تصدیق کیلئے تصاویر منگوائیں، اور جب یقین ہو گیا تو ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ ‘‘بعد ازاں انہوں نے تصدیق کی کہ ان کے والد خاندان کے افراد کو پہچان رہے ہیں اور بات چیت بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا:’’انہوں نے مجھے پہچان لیا، ان کی حالت بہتر ہے اور وہ بات کر رہے ہیں۔ ہم بہت خوش ہیں۔ ‘‘
ایورسٹ کی ایک حیران کن بازیافت کی داستان
دوا شیرپا، جو کھٹمنڈو میں قائم کمپنی Himalayan Traverse کیلئےکام کرتے ہیں اور ایورسٹ کے جنوب میں واقع اوکھالدھونگا ضلع سے تعلق رکھتے ہیں، اس وقت فراسٹ بائٹ (شدید سردی سے جسمانی نقصان) اور دیگر پیچیدگیوں کا علاج کروا رہے ہیں۔ ان کی بازیابی ایورسٹ کے تاریخ کے مصروف ترین کوہ پیمائی سیزن کے بعد ہوئی ہے، جس میں ایک ہزار سے زائد کوہ پیما اور گائیڈ چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ سیزن کے آغاز میں ایک بڑے برفانی تودے نے بیس کیمپ کے قریب راستہ بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے سرگرمیاں تقریباً دو ہفتے تاخیر کا شکار رہیں۔ ۱۹۵۳ء میں ایڈمنڈ ہلیری اور تنزنگ نورگے نے پہلی بار ایورسٹ کو سر کیا تھا۔ آج بھی یہ دنیا کے سخت ترین اور خطرناک ترین ماحول میں شمار ہوتی ہے۔ دوا شیرپا کی کئی دن تک انتہائی بلندی پر تنہا زندہ رہنے اور پھر بحفاظت بازیاب ہونے کی کہانی اب ایورسٹ کی تاریخ کے غیر معمولی ترین ریسکیو واقعات میں شامل ہو چکی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK