Inquilab Logo Happiest Places to Work

مستقبل اور ملازمتوں کےتئیں خدشات: ۷۰ فیصد نوجوان امریکیوں کا اےآئی کےبڑےناموں پر عدم اعتماد کا اظہار

Updated: August 16, 2026, 2:07 PM IST | Washington

سروے میں شامل ۴۵ فیصد افراد کا ماننا ہے کہ اے آئی، ان کے کیریئر پر منفی اثر ڈالے گا۔ اس کے مقابلے،صرف ۱۰ فیصد افراد اے آئی کو مفید سمجھتے ہیں۔ اے آئی ریگولیشن پر بات کرتے ہوئے، ۴۰ فیصد افراد کی خواہش ہے کہ وفاقی حکومت اے آئی سے جڑے قوانین طے کرے، جبکہ ۶۰ فیصد افراد کا کہنا ہے کہ نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کی رفتار سست ہونی چاہئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سی این بی سی/جنریشن لیب (CNBC/Generation Lab) کی جانب سے ۱۸ سے ۳۴ سال کی عمر کے ۱۰۸۸ نوجوان امریکیوں کے درمیان کئے گئے ایک نئے سروے نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو تشکیل دینے والے ٹیک لیڈران کے تئیں نوجوانوں میں گہرے عدم اعتماد کے ساتھ ساتھ ان کے معاشی مستقبل کے بارے میں وسیع تر تشویش پر روشنی ڈالی ہے۔ سروے میں شامل نوجوانوں سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ ٹیکنالوجی کے میدان کے بڑے لیڈران پر اے آئی کے حوالے سے ذمہ داری سے کام کرنے پر بھروسہ کرتے ہیں، تو سروے میں شامل اکثریت نے نفی میں جواب دیا۔

اس سروے میں پالنٹیر (Palantir) کے سی ای او ایلکس کارپ کی صورتحال سب سے خراب رہی۔ سروے میں شامل ۸۱ فیصد نوجوانوں نے کہا کہ وہ کارپ پر بھروسہ نہیں کرتے۔ پے پال کے سابق سی ای او اور پلانٹیر ٹیکنالوجی کے بانی پیٹر تھیل دوسرے مقام پر ہیں جن پر ۷۹ فیصد افراد نے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ اے آئی کمپنی اینتھروپک کے شریک بانی ڈاریو امودی اور گوگل کے سی ای او سندر پچائی کے بارے میں عدم اعتماد کی سطح بالترتیب تقریباً ۷۶ اور ۷۴ فیصد دیکھی گئی، جبکہ تقریباً ۷۰ فیصد نے مارک زکربرگ، سیم آلٹ مین، جینسن ہوانگ اور ایلون مسک پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیہ نڈیلا اس فہرست میں سب سے زیادہ قابلِ اعتماد شخصیت رہے لیکن وہ بھی نصف کا ہندسہ عبور کرنے میں ناکام رہے اور صرف ۳۵ فیصد نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھئے: چین: روبوٹس کیلئے خصوصی اسکول، مشینوں کو حقیقی ملازمتوں کیلئے تربیت دی جائے گی

سروے میں شامل ۴۵ فیصد افراد کا ماننا ہے کہ اے آئی، ان کے کیریئر پر منفی اثر ڈالے گا۔ اس کے مقابلے،صرف ۱۰ فیصد افراد اے آئی کو مفید سمجھتے ہیں۔ اے آئی ریگولیشن پر بات کرتے ہوئے، ۴۰ فیصد افراد کی خواہش ہے کہ وفاقی حکومت اے آئی سے جڑے قوانین طے کرے، جبکہ ۶۰ فیصد افراد کا کہنا ہے کہ نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کی رفتار سست ہونی چاہئے۔

سروے میں شامل نوجوانوں کے درمیان پائی جانے والی معاشی تشویش، صرف اے آئی سے جڑے خدشات سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ تقریباً ۸۰ فیصد جواب دہندگان امریکی معیشت کے بارے میں منفی نقطہ نظر رکھتے ہیں جس میں سے نصف کو حالات مزید خراب ہونے کی توقع ہے۔ ۴۵ فیصد افراد نے رہائش کو سب سے بڑا مالی دباؤ قرار دیا، جس کے بعد نوکری کا تحفظ ۳۹ فیصد رہا۔ نتیجے کے طور پر، ۴۷ فیصد افراد نے کہا کہ انہوں نے چھٹیاں منانے کے منصوبے مؤخر کر دیئے ہیں، جبکہ ۳۰ سے ۳۲ فیصد افراد نے کاریں یا مکانات خریدنا ملتوی کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کارپوریٹ پاور: امریکہ سر فہرست، ہندوستان ۷؍ ویں نمبر پر

اس پس منظر میں، جمہوری سوشلزم (democratic socialism) کا نظریہ مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ سروے میں شامل ۴۶ فیصد جواب دہندگان اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ صرف ۲۳ فیصد اس کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ اس تحریک نے کولوراڈو، پنسلوانیا اور واشنگٹن ڈی سی کے میئر کے مقابلے ڈیموکریٹک پرائمریز میں حالیہ فتوحات دیکھی ہیں، جن میں نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی ان کی نمایاں ترین شخصیات میں شامل ہیں۔ ۲۰۲۵ء کے گیلپ پول میں بھی سرمایہ داری نظام (capitalism) کی حمایت اپنی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی تھی اور سوشلزم کی حمایت بڑھ کر ۳۹ فیصد ہو گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK