• Tue, 17 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل ہوں گے

Updated: February 17, 2026, 7:01 PM IST | Washington

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل ہوں گے، تاہم انہوںنے ایران کو ایک بار پھر خبردار کیا کہ گزشتہ حملوں کے بعد ایران سخت گیر موقف کے نتائج سے آگاہ ہوا۔

US President Donald Trump. Photo: PTI
ڈونالڈ ٹرمپ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر منگل کو جنیوا میں شروع ہونے والے مذاکرات میں ’’بلاواسطہ‘‘ شامل ہوں گے، اور مزید کہا کہ ان کے خیال میں تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ اور یہ بہت اہم ہے۔ دریں اثناء مذاکرات سے قبل کشیدگی عروج پر ہے، امریکہ نے دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیا ہے۔امریکی اہلکاروں نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکی فوج طویل فوجی مہم کے امکان کے لیے تیاری کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: ۱۴؍کرکٹ لیجنڈز کا عمران خان کی صحت پر خط، گواسکر اور کپل دیو بھی شامل

بعد ازاں معاہدے کے امکانات کے بارے میں پوچھے جانے پر، ٹرمپ نے کہا کہ ایران سخت مذاکرات کا خواہاں تھا لیکن گزشتہ موسم گرما میں جب امریکہ نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی تو اسے ایسی سخت گیر روش کے نتائج کا علم ہوا۔ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اس بار ایرانی مذاکرات کے لیے مائل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، ’’میرے خیال میں وہ معاہدہ نہ ہونے کے بعد کے نتائج سے خوفزدہ ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ کے جون میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے سے پہلے، ایران-امریکہ جوہری مذاکرات واشنگٹن کے اس مطالبے پر تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جس کا سبب یہ کہ امریکہ کا یہ مطالبہ تھا کہ تہران اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی ترک کر دے، جسے امریکہ ایرانی جوہری ہتھیار کے حصول کا راستہ سمجھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رفح کراسنگ: اسرائیلی پابندیاں، ۲۰؍ ہزار سے زائد فلسطینی مریض امداد کے منتظر

مزید برآں ایران کے شہری دفاعی ادارے نے پیر کو پارس اسپیشل اکنامک انرجی زون میں کیمیائی دفاعی مشق کا انعقاد کیا تاکہ جنوبی ایران میں واقع انرجی ہب میں ممکنہ کیمیائی واقعات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔بعد ازاں ایران اور امریکہ کے مابین عمان کی ثالثی میں۶؍ فروری کو مسقط میں بلاواسطہ جوہری سفارت کاری دوبارہ شروع ہوئی۔ واضح رہے کہ ، یہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے نتیجے میںمذاکرات کے معطل ہونے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد ہو رہی ہے۔ جبکہ حالیہ مذاکرات   خلیج فارس کے علاقے میں امریکی فوجی تعمیر کی وجہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہورہے ہیں۔  تاہم یورینیم کی افزودگی تنازع کا ایک اہم نکتہ بنی ہوئی ہے۔ ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے بدلے مغربی اقتصادی پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کررہاہے۔دریں اثنا، امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افزودگی مکمل طور پر بند کرے اور اپنا ذخیرہ شدہ انتہائی افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرے۔ ساتھ ہی واشنگٹن نے مذاکرات کے دائرہ کار کو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروپوں کی اس کی حمایت تک وسیع کرنے کی بھی کوشش کی ہے، جبکہ تہران بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK