Updated: June 19, 2026, 8:57 PM IST
| Chicago
بارک اوبامہ صدارتی مرکز، مشی گن جھیل کے کنارے واقع ایک وسیع و عریض کیمپس ہے جس میں ۲۲۵ فٹ اونچا گرینائٹ کا ٹاور بنایا گیا ہے۔ ٹاور کے اندر اوبامہ میوزیم اور این بی اے (NBA) کے سائز کا باسکٹ بال کورٹ بنایا گیا ہے۔ یہ کمپلیکس جمعہ کے دن سے عوام کیلئے کھولا جا رہا ہے۔
براک اوبامہ صدارتی مرکز۔ تصویر: ایکس
سابق امریکی صدر بارک اوبامہ نے جمعرات کے دن شکاگو، الینوائے میں اپنے صدارتی مرکز کے افتتاحی تقریب منعقد کی جس میں موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے علاوہ تمام حیات سابق امریکی صدور سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس تقریب میں ٹرمپ کی غیر موجودگی، سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئی۔
اوبامہ صدارتی مرکز کی افتتاحی تقریب میں کئی سیاستدانوں کے ساتھ فلم ساز اسٹیون اسپیلبرگ، اداکار ٹام ہینکس اور میڈیا کی معروف شخصیت اوپرا ونفرے بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر یوٹو (U2) کے بونو، اسٹیوی ونڈر، بروس اسپرنگسٹین اور ’دی روٹس‘ نے میوزیکل پرفارمنس پیش کئے۔ سابق صدور جارج ڈبلیو بش، بل کلنٹن اور جو بائیڈن نے مشیل اوبامہ اور ان کی بیٹیوں ساشا اور مالیا کے ہمراہ اسٹیج پر اوبامہ کے ساتھ نظر آئے۔
اوبامہ صدارتی مرکز، مشی گن جھیل کے کنارے واقع ایک وسیع و عریض کیمپس ہے جس میں ۲۲۵ فٹ اونچا گرینائٹ کا ٹاور بنایا گیا ہے۔ ٹاور کے اندر اوبامہ کا میوزیم اور این بی اے (NBA) کے سائز کا باسکٹ بال کورٹ بنایا گیا ہے۔ یہ کمپلیکس جمعہ کے دن عوام کیلئے کھولا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر اوبامہ صدارتی مرکز کے ڈیزائن پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس کا موازنہ کچرے کے ڈبے سے کیا ہے اور دیگر ناقدین نے اسے ’اوبامالسک‘ (Obamalisk) کا نام دیا ہے۔ اوباما فاؤنڈیشن کی سی ای او ویلری جیریٹ نے کہا کہ ۸۵۰ ملین ڈالر کے اس منصوبے کا مقصد اوبامہ کے ”امید“ کے پیغام کو محفوظ رکھنا ہے۔ ملک کی دیگر ۱۵ صدارتی لائبریریوں کے برعکس، یہ مرکز اپنے آرکائیوز (دستاویزات) کو مادی شکل کے بجائے ڈجیٹل طور پر محفوظ رکھے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا نیتن یاہو کی مشروط حمایت کا اعلان، جے ڈی وینس کی اسرائیل کو تنبیہ
اوبامہ نے ٹرمپ کے ایران معاہدے پر سوال اٹھائے
افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب کے دوران، اوبامہ نے امریکی جمہوریت سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا اور ”کوئی بادشاہ نہیں“ (No Kings) کے جملے کا استعمال کیا، جو ٹرمپ مخالف مظاہروں سے وابستہ نعرہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ امریکیوں کی ’اکثریت‘ تقسیم سے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔
یہ تقریب، ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں دستخط کردہ یادداشت مفاہمت کے بعد سامنے آئی۔ ٹرمپ برسوں تک اوبامہ کے ۲۰۱۵ء کے ایران جوہری معاہدے پر تنقید کرتے آئے ہیں اور اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران اس سے دستبردار ہونے سے قبل انہوں نے اسے ”تاریخ کا بدترین معاہدہ“ قرار دیا تھا۔
اے بی سی نیوز (ABC News) کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں، اوبامہ نے سوال اٹھایا کہ آیا ٹرمپ کا نیا فریم ورک بہتر نتائج فراہم کرے گا۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ یہ اصل ۲۰۱۵ء کے معاہدے کے مقابلے میں کوئی ”نمایاں بہتری“ لائے۔