Updated: May 25, 2026, 2:02 PM IST
| Brussels
چائلڈ فوکس کی نئی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں بلجیم میں بچوں اور نوعمروں کے آن لائن جنسی استحصال کے کیسز ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے۔ تنظیم نے ۸۳۷؍ متاثرین کی نشاندہی کی، جو تین برس قبل کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہیں۔ رپورٹ میں مصنوعی ذہانت، خاص طور پر ’’ڈیپ نیوڈ‘‘ تصاویر، کو اس اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔ گرومنگ، بلیک میلنگ، غیر رضامندانہ جنسی مواد اور نابالغوں کی جسم فروشی سے متعلق واقعات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ ماہرین نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے فوری قانونی اور سماجی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
چائلڈ فوکس کی جانب سے جاری کی گئی نئی سالانہ رپورٹ نے بلجیم میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق خطرناک صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں بچوں اور نوعمروں کے خلاف آن لائن جنسی استحصال کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جسے تنظیم نے ’’تشویشناک اور فوری توجہ طلب بحران‘‘ قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس آن لائن جنسی استحصال کے ۸۳۷؍ متاثرین ریکارڈ کیے گئے، جن میں گرومنگ، غیر رضامندانہ جنسی مواد، بلیک میلنگ اور اے آئی سے تیار کردہ جعلی عریاں تصاویر شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : گلوبل صمود فلوٹیلا پراسرائیلی حملے کے خلاف یورپ میں ہزاروں افراد کا مظاہرہ
یہ تعداد ۲۰۲۲ء میں درج ۴۰۱؍ کیسز کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اضافے کی ایک بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کو قرار دیا گیا ہے، خاص طور پر ’’ڈیپ نیوڈز‘‘ کے پھیلاؤ کو، جن میں اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے بچوں اور نوعمروں کی حقیقت سے قریب تر جعلی عریاں تصاویر تیار کی جاتی ہیں۔
نائلس بروکھیسن جو چائلڈ فوکس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، نے خبردار کیا کہ بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے فوری اور مضبوط اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے بچوں کے آن لائن تحفظ کو بہتر بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ فوری ہو گئی ہے۔ ہمیں نہ صرف متاثرین کی مدد کرنی ہے بلکہ ایسی روک تھام بھی کرنی ہے جو بچوں کو خود کو محفوظ رکھنے کے قابل بنا سکے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق ’’گرومنگ‘‘ کے واقعات میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ۲۰۲۵ء میں تنظیم نے ایسے ۱۰۸؍ نئے کیسز کھولے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں ۱۵۱؍ فیصد زیادہ ہیں۔ متاثرہ بچوں کی اوسط عمر صرف ۱۳؍ سال تھی۔
اسی طرح ’’سیکسٹورشن‘‘ یعنی جنسی بلیک میلنگ کے ۴۳۳؍ متاثرین سامنے آئے، جو ایک سال میں ۱۴۳؍ فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس جرم میں متاثرین کی نجی تصاویر یا ویڈیوز کو مزید مواد یا رقم کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ غیر رضامندانہ جنسی مواد سے متعلق کیسز میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ایسے ۲۹۶؍ نئے واقعات رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۳۰؍ فیصد زیادہ ہیں۔ متاثرین میں تقریباً تین چوتھائی لڑکیاں تھیں، جبکہ ان کی اوسط عمر ۱۴؍ سال ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ نگہداشت کے مراکز سے بار بار لاپتہ ہونے والے کمزور بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اور اکثر ایسے کیسز کا تعلق جنسی استحصال سے جڑا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑئے : غیر موجودگی کا مطلب خاموشی نہیں، میں بہت جلد بنگلہ دیش واپس لوٹوں گی: شیخ حسینہ
چائلڈ فوکس کو ۲۰۲۵ء میں لاپتہ بچوں کی ۲۱۴۷؍ رپورٹس موصول ہوئیں، جن میں ۱۵۱۴؍ مختلف نابالغ شامل تھے۔ تنظیم نے کہا کہ کئی بچے متعدد بار لاپتہ ہوئے، جس سے ان کے استحصال کے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ مزید برآں، نابالغوں کی جسم فروشی سے متعلق کیسز میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ تنظیم کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ایسے ۱۵۱؍ واقعات رپورٹ ہوئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں ۶۰؍ فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں ۶۱؍ فیصد متاثرین کی عمر ۱۶؍ سال سے کم تھی، جبکہ تین متاثرین ۱۳؍ سال سے بھی کم عمر تھے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا، خفیہ چیٹ ایپس اور اے آئی ٹیکنالوجی کے بے قابو استعمال نے بچوں کو پہلے سے کہیں زیادہ خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ تنظیم نے یورپی حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سخت قوانین، بہتر نگرانی اور بچوں کے لیے محفوظ آن لائن ماحول یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔