Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیلجیم: یورپی یونین ممالک کے شہریوں کا ریکارڈ اخراج

Updated: July 04, 2026, 2:05 PM IST | Brussels

بیلجیم سے یورپی یونین ممالک کے شہریوں کا اخراج بلند ترین سطح پر درج کیا گیا،جبکہ امیگریشن کی شرح مستحکم رہی، ملک میں آنے والی افراد میں رومانیہ کے شہری سب سے بڑی تعداد میں رہے، جن کی آمد کی بنیادی وجہ روزگار تھی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

بیلجیم میں۲۰۲۴ء میں یورپی یونین کے شہریوں کی روانگی کا ریکارڈ سطح پر اضافہ ہوا، جبکہ امیگریشن کی شرح مستحکم رہی۔ ملک میںآنے والوں میں سب سے بڑی رومانیہ کے شہری تھے، جن کی آمد کی بنیادی وجہ روزگار تھی۔کل ۱۷۱۷۰۶؍ غیر ملکی شہری۲۰۲۴ء میں بیلجیم آئے، جو۲۰۲۳ء کی سطح کے مطابق ہے تاہم وبا سے پہلے کی سطح سے زیادہ ہے، جس کی جزوی وجہ یوکرین کی جنگ سے منسلک پچھلی آمد کو بھی قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً نصف نئے آنے والے یورپی یونین کے رکن ممالک سے تھے، جبکہ۱۴؍ فیصد غیر یورپی یورپی ممالک سے،۱۷؍فیصد ایشیا سے،۱۶؍ فیصد افریقہ سے اور۵؍ فیصد امریکہ سے آئے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: غیرملکی حاملہ خواتین کی آمد روکنے کیلئے نئی امریکی پالیسی زیر غور

بعد ازاں رومانیہ کے شہری سب سے بڑا گروپ رہے جن کی تعداد۱۸؍ ہزار ۸۴۵؍ تھی، جن میں زیادہ تر مرد تھے اور ہجرت کی بنیادی وجہ روزگار بتائی گئی۔ ان کے بعد فرانس، یوکرین، نیدرلینڈز، اسپین اور مراکش کے شہری آئے۔ فرانسیسی شہری خواتین مہاجرین میں سب سے زیادہ تھے۔ ۲۰۲۴ء میں۹۱۸۶۶؍ غیر ملکی بیلجیم سے روانہ ہوئے، جو پچھلے سالوں کے مقابلے میں تقریباً مستحکم تعداد ہے۔ تاہم، یورپی یونین کے شہریوں کی روانگی ریکارڈ سطح پر پہنچی، جہاں۶۱۳۳۸؍ افراد نے ملک چھوڑا، جو اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ بعد ازاں روانہ ہونے والوں میں رومانیہ (۱۵۴۱۴؍) فرانس (۱۰۴۴۲؍) اور نیدرلینڈز ( ۶۲۵۶؍) سرفہرست تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی جوہری تخفیف کا عمل بحسن و خوبی جاری ہے: ٹرمپ

واضح رہے کہ یورپی یونین کے شہریوں کی ہجرت ایک پیچیدہ رجحان ہے جو ہر ملک کی نقل و حرکت کی حکمت عملیوں پر منحصر ہے۔جبکہ  ان گروہوں کا اخراج یہاں آنے کی ابتدائی وجوہات سے بھی جڑا ہے۔ایجنسی نے مزید بتایا کہ یکم جنوری۲۰۲۵ء کو بیلجیم کی آبادی۱۱۸۲۵۵۵۱؍ تھی۔ اس میں۱۶۳۴۹۲۴؍ غیر ملکی شہری شامل ہیں جبکہ کل غیر ملکی اصل کے افراد۲۶۱۹۲۸۹؍ ہیں، جو آبادی کا۲۲؍ بنتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK