Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: غیرملکی حاملہ خواتین کی آمد روکنے کیلئے نئی امریکی پالیسی زیر غور

Updated: July 01, 2026, 6:01 PM IST | Washington

امریکہ میں پیدائشی شہریت کے قانون پر ایک بار پھر سیاسی اور قانونی کشمکش شدت اختیار کر گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا صدارتی حکم نامہ مسترد کئے جانے کے بعد وہائٹ ہاؤس غیرملکی حاملہ خواتین کے داخلے پر نئی پابندیوں پر غور کر رہا ہے۔

Donald Trump. Photo: INN.
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔

امریکہ کی سپریم کورٹ نے منگل کے روز صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس صدارتی حکم نامے کو کالعدم قرار دے دیا جس کا مقصد پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) کو محدود کرنا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی یہ کوشش ناکام ہوگئی۔ صدر ٹرمپ نے عدالتی فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر فوری قانون سازی کرے۔ اسی دوران ٹرمپ کے قریبی مشیر غیرملکی حاملہ خواتین کے امریکہ میں داخلے پر ممکنہ پابندی عائد کرنے کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین معاملے میں بل گیٹس کا کردار واضح ہونے تک وارن بفیٹ گیٹس فاؤنڈیشن کو عطیہ نہیں دیں گے

وہائٹ ہاؤس کے مشیر اسٹیفن ملر نے بدھ کے روز فاکس نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں عندیہ دیا کہ انتظامیہ موجودہ پالیسیوں کا ’’سخت جائزہ‘‘ لے گی۔ عدالتی فیصلے سے قبل بعض ماہرین کا اندازہ تھا کہ اگر ٹرمپ کا حکم نافذ ہو جاتا تو ہر سال امریکہ میں پیدا ہونے والے تقریباً ڈھائی لاکھ بچوں کی قانونی شہریت متاثر ہو سکتی تھی، جبکہ لاکھوں دیگر خاندانوں کو بھی اپنے نومولود بچوں کی شہریت ثابت کرنے کیلئے اضافی دستاویزات پیش کرنا پڑتیں۔ پیدائشی شہریت کو محدود کرنا ریپبلکن صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے اہم ترین اہداف میں شامل تھا۔ اسی لئے انہوں نے گزشتہ سال دوبارہ منصب سنبھالنے کے پہلے ہی دن اس حوالے سے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کئے تھے۔ اس حکم کے تحت وفاقی اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ اگر امریکہ میں پیدا ہونے والے بچے کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا قانونی مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈر) نہ ہو تو ایسے بچے کو امریکی شہریت تسلیم نہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ میں واپس آؤں گا‘‘ اور’’الفا‘‘ کی کامیابی خواب کی تعبیر ہوگی: شروَری

اسٹیفن ملر کی ’برتھ ٹورازم‘ پر تنقید
اسٹیفن ملر نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اب آپ کو بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ اپنے ملک میں کن لوگوں کو، چاہے عارضی طور پر ہی کیوں نہ ہو، داخل ہونے دیتے ہیں، کیونکہ ’’برتھ ٹورازم‘‘کا مسئلہ موجود ہے۔ لوگ صرف اس مقصد سے امریکہ آتے ہیں کہ ان کے بچے امریکی سرزمین پر پیدا ہوں، اور پھر وہ بچہ زندگی بھر کیلئےامریکی شہری بن جاتا ہے۔ ‘‘وہائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف نے دعویٰ کیا کہ بعض افراد حمل کے آخری مہینے میں امریکہ آتے ہیں، بظاہر سیاحت یا دیگر وجوہات کا بہانہ بناتے ہیں، لیکن چند ہی ہفتوں بعد وہ ایک ایسے بچے کی ماں بن جاتے ہیں جو پیدائش کے ساتھ ہی امریکی شہریت حاصل کر لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’روایتی شوز کو ختم کرنے کیلئے میں نے اپنا پروڈکشن ہاؤس شروع کیا ہے‘‘

ٹرمپ کی ’برتھ ٹورازم‘ ویزا پالیسی
غیرملکی خواتین کے امریکہ آ کر بچوں کی پیدائش کے رجحان، جسے ’’برتھ ٹورازم‘‘ کہا جاتا ہے، کے خلاف اقدامات ٹرمپ انتظامیہ کیلئے کوئی نئی بات نہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران۲۰۲۰ءمیں بھی اس مقصد کیلئے نئی ویزا پالیسی متعارف کرائی تھی۔ اس پالیسی کے تحت اگر قونصلر افسران کو یہ یقین ہو جاتا کہ کوئی خاتون بنیادی طور پر امریکہ میں بچے کی پیدائش کیلئے سیاحتی ویزا حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے ویزا دینے سے انکار کیا جا سکتا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK