Updated: May 11, 2026, 9:59 PM IST
| Brussels
بلجیم میں جیلوں کے عملے نے ملک گیر ہڑتال شروع کر دی ہے جس کی وجہ جیلوں میں خطرناک حد تک بڑھتی بھیڑ، عملے کی کمی، تشدد کے واقعات اور بڑھتا ہوا کام کا دباؤ بتایا جا رہا ہے۔ ٹریڈ یونینوں اور وزیر انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد احتجاج شروع ہوا۔ حکام کے مطابق بلجیم کی جیلوں میں گنجائش سے ہزاروں زیادہ قیدی موجود ہیں جبکہ سیکڑوں قیدی فرش پر گدوں پر سونے پر مجبور ہیں۔
بلجیم قید خانہ: تسویر ایکس
بلجیم بھر میں جیل کے عملے نے آج ملک گیر ہڑتال شروع کر دی، جس کے پیچھے جیلوں میں بڑھتی ہوئی بھیڑ، تشدد کے واقعات اور عملے پر بڑھتے دباؤ کو بنیادی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے بیلجا نیوز ایجنسی کے مطابق ہڑتال مقامی وقت کے مطابق صبح ۶؍ بجے شروع ہوئی، جب ٹریڈ یونینوں اور بلجیم کی وزیر انصاف اینی لیز ورلنڈن کے دفتر کے درمیان مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔ یونینوں کا کہنا ہے کہ حکومت جیلوں میں بڑھتی گنجائش کے بحران، عملے کی کمی اور سیکوریٹی مسائل پر مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ایک غیر معمولی پیش رفت میں جیلوں کے ڈائریکٹروں نے بھی ہڑتال کی کھل کر حمایت کی اور موجودہ حالات کو ’’ناقابل برداشت‘‘ قرار دیا۔ اطلاعات کے مطابق بلجیم کی جیلوں کی مجموعی سرکاری گنجائش ۱۱۰۶۴؍ قیدیوں کی ہے، لیکن اس وقت تقریباً ۱۳۷۳۳؍ قیدی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم ۷۵۴؍ قیدی فرش پر گدوں پر سونے پر مجبور ہیں کیونکہ جیلوں میں جگہ کی شدید کمی ہے۔ ٹریڈ یونینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، کیونکہ اس عرصے میں عملے کی کمی بڑھ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : غزہ، یوم مادر: بھوک، سوگ اور لاپتہ بچے، فلسطینی ماؤں کا دن بے یقینی کے سائے میں
جیل حکام کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران جیلوں میں سنگین تشدد کے واقعات کی تعداد تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ عملے پر حملوں اور جارحانہ رویوں کی وجہ سے زخمی ہونے والے اہلکاروں کی غیر حاضریوں میں بھی گزشتہ دو برسوں کے دوران ۳۰؍ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بلجیم کی جیل سروس کی سربراہ میتھلیڈ اسٹین برجن سے بھی توقع کی جا رہی تھی کہ وہ عملے سے اظہارِ یکجہتی کے لیے لینٹین جیل میں ہڑتالی کارکنوں سے ملاقات کریں گی۔ یورپی سطح پر بھی بلجیم کی جیلوں کی صورتحال تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : غزہ، یوم مادر: بھوک، سوگ اور لاپتہ بچے، فلسطینی ماؤں کا دن بے یقینی کے سائے میں
یورپین کمیٹی فار دی پریوینشن آف ٹارچر نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ یورپ کی جیلوں میں بڑھتا ہوا ہجوم ’’غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک‘‘ کے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ کمیٹی نے خاص طور پر ان جیلوں پر تشویش ظاہر کی جہاں قیدیوں کو بنیادی سہولتوں کے بغیر انتہائی محدود جگہ میں رکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یورپ کے کئی ممالک کو جیلوں میں بڑھتی آبادی، عملے کی کمی اور ذہنی صحت کے مسائل جیسے بحرانوں کا سامنا ہے، تاہم بلجیم میں صورتحال نسبتاً زیادہ سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ٹریڈ یونینوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات نہ صرف قیدیوں بلکہ جیل عملے کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ حکومت کی جانب سے فی الحال کوئی نیا سمجھوتہ سامنے نہیں آیا، جبکہ ہڑتال کے باعث ملک بھر کی جیلوں میں معمولات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔