Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال: حکومت بنتے ہی بی جے پی کی مدارس پر نظر

Updated: June 07, 2026, 11:56 AM IST | Kolkata

تسلیم شدہ اور غیر تسلیم شدہ تمام مدارس کے جامع سروے کا حکم، سروے کے انتظامی نوعیت کے ہونے کا دعویٰ۔

West Bengal Chief Minister Shubhandwadhikari. Photo: INN
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھندوادھیکاری۔ تصویر: آئی این این

مغربی بنگال حکومت نے ایک اہم پیش رفت کے تحت ریاست بھر کے تمام مدارس کا جامع سروے شروع کر دیا ہے اور ضلع مجسٹریٹوں کو ان اداروں کی موجودہ حالت، بنیادی ڈھانچے، تعلیمی سرگرمیوں اور طلبہ کی ساخت سے متعلق تفصیلی معلومات جمع کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس سروے میں تسلیم شدہ اور غیر تسلیم شدہ تمام مدارس کو شامل کیا گیا ہے۔ سروے۵؍جولائی تک مکمل کیا جانا ہے اور اس کی ضلعی سطح کی جامع رپورٹ نبنّا میں واقع محکمۂ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کے محکمہ کو پیش کی جانی ہے۔محکمۂ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کی جانب سے۵؍جون کو جاری کردہ سرکاری ہدایت کے مطابق، یہ سروے ریاست کے تمام بلاکس اور بلدیاتی علاقوں میں انجام دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: نیٹ پیپر لیک کے خلاف امراوتی میں کانگریس کارکنان کا مشعل مارچ

ضلع مجسٹریٹوں کو اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں چلنے والے ہر مدرسے کے بارے میں تازہ ترین معلومات جمع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سروے میں ملحقہ اور تسلیم شدہ مدارس، رجسٹرڈ ادارے، امداد یافتہ اور غیر امداد یافتہ ادارے غیر رجسٹرڈ ادارے، کمیونٹی کی جانب سے چلائے جانے والے مدارس اور نجی مدارس اور کسی نہ کسی صورت میں مدرسہ تعلیم فراہم کرنے والے دیگر تمام ادارے شامل ہوں گے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ عمل بنیادی طور پر انتظامی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد ریاست میں مدرسہ تعلیم سے متعلق ایک قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس تیار کرنا ہے۔ 

افسران کو اداروں کی نوعیت اور قانونی حیثیت، انتظامی انفرا سٹرکچر، بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات، تعلیمی سرگرمیوں اور زیر تعلیم طلبہ کے سماجی و تعلیمی پروفائل سے متعلق معلومات جمع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔سروے کے دوران مدرسوں کی عمارتوں، کلاس رومز، پینے کے پانی کی سہولت، صاف صفائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر دستیاب سہولیات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مدارس میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کی نوعیت اور مجموعی تعلیمی ماحول کا بھی معائنہ کیا جائے گا۔ ہدایت کے مطابق، اس سروے کے ذریعے تیار ہونے والا ڈیٹا بیس حکومت کو مستقبل کی تعلیمی منصوبہ بندی، بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقدامات اور تعلیمی ریکارڈ کی بہتر نگہداشت میں مدد فراہم کرے گا۔ حکومت کا ارادہ اس معلومات کو کسی بھی بے ضابطگی یا غیر قانونی سرگرمی کی نشاندہی اور مناسب اصلاحی اقدامات کے لیے بھی استعمال کرنے کا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امیدواروں کے نام واپس لینے پر آپسی نوک جھونک 

دوسری جانب محکمہ اقلیتی امور نے اس سروے کے حوالے سے اداروں اور طلبہ میں پائی جانے والی تشویش کو دور کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ ہدایت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ سروے صرف انتظامی اور معلومات جمع کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ اس میں خاص طور پر کہا گیا ہے کہ سروے کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی تعزیری کارروائی، قانونی اقدام یا کسی مدرسے کو بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ مزید یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں کسی بھی طالب علم کو کسی ادارے سے خارج نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سروے میں شامل تمام مدارس کو جاری تعلیمی سیشن کے دوران بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی معمول کی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اس کام کو انتہائی ضروری قرار دیتے ہوئےمذکورہ محکمہ نے ضلع مجسٹریٹس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر سروے انجام دیں اور فوری طور پر اس پر عمل شروع کریں ۔حتمی جامع رپورٹ محکمۂ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کو ۵؍ جولائی ۲۰۲۶ءیا اس سے قبل پیش کی جانی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK