رات کے وقت مظاہرین ہاتھوں میں مشعل لئے سڑک پر اتر آئے، سڑک جام کی اور حکومت کے خلاف جم کر نعرے لگائے۔
EPAPER
Updated: June 07, 2026, 10:08 AM IST | Ali Imran | Amravati
رات کے وقت مظاہرین ہاتھوں میں مشعل لئے سڑک پر اتر آئے، سڑک جام کی اور حکومت کے خلاف جم کر نعرے لگائے۔
ملک کے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے نیٹ پیپر لیک معاملے پر پورے ملک میں بطور خاص نوجوانوں میں غصہ اور ناراضگی ہے۔ موجودہ تعلیمی نظام اور نیٹ جیسے اہم امتحان میں گھوٹالے کے خلاف نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا کی جانب سے جمعہ کی رات مشعل مارچ نکالا گیا۔ اس مارچ کے ذریعہ مرکزی حکومت کی سخت مذمت اور طلبہ کو انصاف دلوانے کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ مشعل مارچ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر چوک (اروین چوک) سے شروع ہوا۔ رات کے اندھیرے میں ہاتھوں میں مشعلیں اور مرکزی حکومت مخالف پلے کارڈ اٹھائے سیکڑوں طلبہ اور مختلف پارٹیوں اور تنظیموں کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے۔ سڑک پر مارچ کرتے ہوئے مظاہرین نے مرکزی حکومت اور این ٹی اے انتظامیہ کے خلاف زوردار نعرے لگائے ۔ شہر کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا یہ مارچ جے استمبھ چوک میں واقع مہاتما گاندھی کے مجسمہ تک پہنچا جہاں مشتعل مظاہرین نے مرکزی سڑک پر بیٹھ کر کچھ دیر کیلئے سڑک کو بلاک کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’حکومت جن لوگوں سے ڈرتی ہے ان کیخلاف کارروائی شروع کر دیتی ہے‘‘
ان کے فلک شغاف نعروں سے علاقہ لرز اٹھا اور کچھ دیر کیلئے مرکزی شہر کا ٹریفک جام ہو گیا۔ اس مارچ میں بڑی تعداد میں طلبہ، نوجوانوں، والدین اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ رکن پارلیمان بلونت وانکھیڈے، سابق وزیر یشومتی ٹھاکر، سابق وزیر ڈاکٹر سنیل دیش مکھ، سابق میئر ولاس انگولے، کانگریس کے شہر صدر ببلو شیخاوت، این ایس یو آئی کے ریاستی صدر ساگر سالونکھے اور کانگریس اور این ایس یو آئی کے متعدد عہدیدار اور کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔ احتیاط کے طور پر پولیس نے کڑا بندوبست لگا رکھا تھا۔ اس موقع پر این ایس یو آئی نے اپنے اہم مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہئے۔ کرپشن کا مرکز بننے والی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو فوری طور پر تحلیل کیا جائے۔ نیٹ امتحان میں بدعنوانی کی مکمل جانچ ہونی چاہئے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے اور لاکھوں ایماندار طلبہ کو انصاف فراہم کیا جانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: اترپردیش: کھوڑا میں جمعہ کی نماز میں خلل، ہندوتوا گروپ کی مسلم مخالف نعرے بازی
یاد رہے کہ مئی کے ابتدا میں نیٹ کا پرچہ ہوا تھا جس کیلئے طلبہ کو کڑی محنت کرنی پڑتی ہے ۔ ملک بھر میں لاکھوں طلبہ اس امتحان میں شریک ہوئے امتحان کے بعد معلوم ہوا کہ نیٹ کا پرچہ لیک ہو گیا تھا لہٰذا حکومت نے اس پرچے کو منسوخ کر دیا اور ۲۱؍ جون کو دوبارہ امتحان منعقد کرنے کا اعلان کیا جس سے وہ طلبہ ناراض ہیں جنہوں نے پوری ایمانداری سے پرچہ لکھا تھا ۔سنیچر کو دہلی کے جنتر منتر پر حال ہی میں سوشل میڈیا پر وجود میں آئی کاکروچ جنتا پارٹی کے زیر اہتمام ایک احتجاج منعقد کیا گیا جس میں ملک بھر کے نوجوانوں نے جمع ہو کر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔