Updated: April 13, 2026, 9:59 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ آف انڈیا نے مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) پر سماعت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے عمل کو ’’منطقی تضاد‘‘ قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ ووٹر دو آئینی اداروں کے درمیان پھنس گئے ہیں۔ اس عمل کے تحت لاکھوں ووٹرز کو فہرست سے ہٹا دیا گیا، جبکہ انتخابات ۲۳؍ اور ۲۹؍ اپریل کو ہونے ہیں۔ عدالت نے معاملے کی مزید سماعت کا فیصلہ کیا ہے اور انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ آف انڈیا نے پیر کو مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن(ایس آئی آر) سے متعلق اہم درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اقدامات پر سخت سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاست میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جوئے مالا باغچی پر مشتمل بنچ نے مشاہدہ کیا کہ الیکشن کمیشن نے صرف مغربی بنگال میں ’’مشکوک ووٹروں‘‘ کی الگ فہرست تیار کر کے ایک ’’منطقی تضاد‘‘ پیدا کر دیا ہے۔ عدالت کے مطابق، اس عمل کے نتیجے میں ووٹرز دو مختلف آئینی اداروں عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے درمیان پھنس گئے ہیں۔
جسٹس باغچی نے واضح طور پر کہا کہ یہ معاملہ کسی ادارے کے خلاف الزام تراشی کا نہیں بلکہ ووٹر کے حقوق کا ہے۔ ان کے مطابق عدالت کا کردار انتخابات کو فروغ دینا ہے، نہ کہ انہیں روکنا، لیکن موجودہ صورتحال میں ووٹر غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ یہ سماعت ان درخواستوں کے تناظر میں ہوئی ہے جن میں الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت ووٹر لسٹوں کو ۹؍ اپریل کو منجمد کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ جن افراد کے نام نظرثانی کے دوران حذف کیے گئے، وہ آنے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اس نظرثانی کے عمل کے نتیجے میں لاکھوں ووٹرز کو فہرستوں سے خارج کر دیا گیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق یہ تعداد ۶۱؍ لاکھ سے ۹۱؍ لاکھ تک بتائی جا رہی ہے، جو ریاست کے کل ووٹرز کا تقریباً ۱۲؍ فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غازی آباد: کلینک میں چوری کی کوشش ناکام، لڑکا شٹر میں پھنس گیا
عدالت نے اس عمل کی نگرانی کے لیے پہلے ہی اہم اقدامات کیے تھے۔ ۲۰؍ فروری کو اس نے ہدایت دی تھی کہ ڈسٹرکٹ جج یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے درجے کے عدالتی افسران کو تعینات کیا جائے تاکہ دعوؤں اور اعتراضات کا جائزہ لیا جا سکے۔ بعد ازاں ۱۰؍ مارچ کو عدالت نے اپیلٹ ٹربیونلز قائم کرنے کا حکم دیا، جہاں مسترد کیے گئے ووٹرز اپنی اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً ۴۷؍ فیصد معاملات عدالتی افسران نے مسترد کر دیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظرثانی کے عمل میں بڑی تعداد میں تنازعات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ عدالت مالدہ ضلع میں اس عمل کے دوران عدالتی افسران کے مبینہ گھیراؤ اور غیر قانونی حراست کے معاملے پر بھی ازخود نوٹس لے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نئی دہلی: مرحوم آیت اللہ خامنہ ای کا چہلم، ہند ایران تعلقات پر زور
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں ۲۳؍ اور ۲۹؍ اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی ۴؍ مئی کو کی جائے گی۔ ایسے میں ووٹر لسٹوں کا منجمد ہونا اور بڑی تعداد میں ووٹرز کا اخراج ایک بڑا سیاسی اور قانونی مسئلہ بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ معاملہ نہ صرف انتخابی شفافیت بلکہ جمہوری عمل پر عوام کے اعتماد کے لیے بھی اہم ہے۔ سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا اس نظرثانی کے عمل میں کوئی اصلاح یا مداخلت ممکن ہے یا نہیں۔