بسوں کی تعداد برائے نام رہ جانے کے باوجود ڈرائیوراور کنڈکٹر۱۵؍ ہزار ہیں جنہیں مختلف ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ ۲۵؍سو سے زائد بسیں مختلف ایجنسیز کی ویٹ لیز والی ہیں ۔
EPAPER
Updated: June 08, 2026, 12:08 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
بسوں کی تعداد برائے نام رہ جانے کے باوجود ڈرائیوراور کنڈکٹر۱۵؍ ہزار ہیں جنہیں مختلف ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ ۲۵؍سو سے زائد بسیں مختلف ایجنسیز کی ویٹ لیز والی ہیں ۔
ممبئی کی شان اور دوسری لائف لائن کا درجہ رکھنے والی بیسٹ کی حالت خستہ ہے، محض۲۴۹؍ بسیں بیسٹ کی اپنی بچی ہیں ۔ بقیہ تقریباً۲۵؍سو بسیں ویٹ لیز کی چلائی جارہی ہیں، حالانکہ معاہدے کے مطابق بیسٹ کی اپنی۳۷؍سو بسیں ہونی چاہئیں مگر آہستہ آہستہ بیسٹ کی بسیں ختم ہوتی گئیں اور اب حالت ناگفتہ بہ ہوگئی ہے۔ ایسے میں یونین کی جانب سے یہ سوال قائم کیا جانا غلط نہیں ہے کہ کہیں بیسٹ کا وجود ہی نہ مٹ جائے اور پوری طرح پرائیویٹائزیشن ہوجائے۔ یونین لیڈران سے بات چیت کرنے پر ان کا کہنا ہے کہ بار بار بیسٹ انتظامیہ کو متوجہ کیا گیا مگر توجہ نہیں دی گئی، اس کا نتیجہ ہے کہ بیسٹ بسوں کی تعداد دن بہ دن گھٹتی گئی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی۔ اتناہی نہیں اس کا اثر بیسٹ کی مسافروں پر بھی پڑا ہے، اس لئے یہ ضروری ہے کہ بیسٹ کی حالت سدھارنے کے لئے حکومت اعلان کرنے کے بجائے عملی اقدام کرے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس نے بیسٹ کی حالت میں سدھار کے لئے طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت کام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ مل جل کر کام کرنا ہوگا تاکہ بیسٹ کی خدمات کا دائرہ وسیع کیا جائے اور لاکھوں مسافروں کو بہتر سہولیات کی شکل میں اس کا فائدہ ہو۔ دیکھنا ہوگا کہ وزیراعلیٰ کے اس اعلان اور توجہ دلانے پر بیسٹ کی حالت میں کب سدھار آتا ہے یا یہ بھی محض اعلان ہی ثابت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بیسٹ ڈرائیوروں کی غفلت سے راہگیروں اور مسافروں کی جان کو خطرہ لاحق
یاد رہے کہ بیسٹ کا ایک دور سابق جنرل منیجر اتم کھوبرا گڑے کے وقت میں تھا کہ جب موٹر مینوں کی ہڑتال کے سبب بیسٹ بسوں کے مسافروں کی تعداد۶۵؍ لاکھ تک پہنچ گئی تھی، اس وقت تو اس کی نصف تعداد بھی نہیں رہ گئی ہے۔
بسیں کم ہیں تو بیسٹ ڈرائیور اور کنڈکٹر کیا کررہے ہیں ؟
یہ ایک اہم سوال ہے کہ جب بیسٹ کی بسیں برائے نام رہ گئیں تو ڈرائیور اور کنڈکٹر کتنے ہیں اور وہ کیا خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس تعلق سے پی آر او کا کہنا تھا کہ بیسٹ کے تقریباً۵؍ ہزار ڈرائیور اور۱۰؍ ہزار کنڈکٹر ہیں۔ ڈرائیوروں میں سے کچھ بسیں چلارہے ہیں کچھ بیسٹ ملازمین اور افسران کے لئے ریزرو گاڑیاں چلارہے ہیں، کچھ سیکوریٹی کی ڈیوٹی کررہے ہیں تو کچھ وہ ڈرائیور جو پڑھے لکھے ہیں ان کو دفتری ذمہ داری اور کلرک کا کام سونپا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اب سیلون میں بال کٹوانا اور ڈاڑھی بنوانا بھی مہنگا، ۲۰؍ فیصد اضافہ
پی آراو کا کیا کہنا ہے؟
پی آر او کا یہ بھی کہنا تھا کہ کنڈکٹر اپنا کام کررہے ہیں۔ جو پرائیویٹ بسیں بیسٹ کے ذریعے کلو میٹر کے حساب سے چلوائی جارہی ہیں ، ان میں بھی بیسٹ کی ہی کنڈکٹر ڈیوٹی کررہے ہیں۔ اس طرح انہیں اسی کام پر مامور کیا گیا ہے۔
بیسٹ کی بسیں بڑھائی جائیں گی
پی آر او کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیسٹ کی اپنی بسیں بڑھائی جائیں گی۔ نئی جو کھیپ لائی جائے گی اس میں بیسٹ کی اپنی بسیں بھی شامل ہوں گی۔ انہیں مرحلہ وار طریقے سے بیسٹ کے بیڑے میں شامل کیا جائے گا۔