مستقل ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ اضافی ۳؍ ہزار روپے اور کنٹریکٹ ملازمین کو ۲؍ ہزار روپے اضافی تنخواہ دینے کے علاوہ دیگر شرائط بھی مان لی گئیں۔
بیسٹ کی ایک بس میں مسافر سوارہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ تصویر: ستیج شندے
برہن ممبئی الیکٹرک سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ (بیسٹ )جسے ممبئی کی دوسری لائف لائن کہا جاتا ہے ، کے ملازمین تین دنوں تک جاری رہنے والی ہڑتال کے بعد ملازمت پر لوٹ آئے ہیں ۔ہڑتال کے ختم ہونے اور بیسٹ بس سروس بحال ہونے سے ایک طرف مسافروں نے راحت کی سانس لی ہے تودوسری طرف اپنی شرائط منوانے میں کامیابی کے سبب مستقل بس ڈرائیور وں اور ویٹ لیز بسیں چلانےو الے ڈرائیوروں کی تنخواہوں میں اضافہ اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کے بعداتوار کو ہڑتال کے خاتمہ کا اعلان کرنے بعد پیر سے ملازمین ڈیوٹی پر لوٹ آئے۔ اس طرح مسافروں کو پریشانی ختم ہوگئی۔
بیسٹ بس سروس جو عروس البلاد ممبئی کے شہریوں کی آمد و رفت کا ایک انتہائی اہم ذریعہ ہے ، ۱۹؍ جون کو بیسٹ کے ملازمین کی مشترکہ کمیٹی ’بیسٹ سنیوکت کامکاگر کروتی سمیتی ‘ کے ہمراہ بیسٹ ملازمین کی تقریباً ۲۰؍ تنظیموں کے ملازمین نے بے مدت ہڑتال کا اعلان کر دیاتھا ۔ تنخواہوں میں اضافہ ، بقایا گریجویٹی کی ادائیگی اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہڑتال کردی گئی تھی جس سے شہر اور مضافات کے لاکھوں مسافروں جن میں طلبہ ،خواتین ، بوڑھے اور بچوں کے علاوہ ملازمت پیشہ افراد شامل تھے ، تین دنوں تک بے انتہا پریشان ہوئے ۔ یہی نہیں شہر اور مضافات میں ہڑتال کرنے پر مسافروں نے کئی جگہ احتجاجاً بسوں پر پتھراؤ بھی کیا تھا اور توڑ پھوڑ بھی کی تھی ۔
مذکورہ ہڑتال کے سبب ۲؍ ہزار ۷۰۰؍ بسوں کی سروس مکمل طور پر بند ہوگئی تھی ۔ ۱۹؍ جون کو شروع ہونے والی اس ہڑتال سے مسافروں کو ہونے والی پریشانیوں اور بیسٹ ملازمین کے مطالبات پر غور کرنے نیز ہڑتال کو ختم کرنے کے لئے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت میں وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک کے علاوہ لیڈر سچن آہیر نے ملازمین کی یونینوں کے لیڈران سے تبادلہ خیال کیا تھا ۔ اتوارکو رات ۱۱؍ بجے ملازمین کے بیشتر مطالبات کو پورے کرنے کا یقین دلایا گیا جس کے بعد ’بیسٹ سنیوکت کامکاگر کروتی سمیتی ‘نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا اور پیر سے سروس بحال کرتے ہوئے ڈرائیور اور کنڈکٹر ڈیوٹی پر لوٹ آئے ۔
بیسٹ ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق ہڑتال ختم ہونے کے بعد بھی مکمل طور پر بسوں کا سلسلہ شروع نہیں ہوا ہے جس سے مسافروں کو تاخیر کے ساتھ ساتھ بھیڑ کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اطلاع کے مطابق بیسٹ کروتی سمیتی کی ۱۸۸؍ بسوں میں ۱۶۵؍ بسیں چلائی گئیں ۔ اسی طرح ایک ہزار ۴۵۴؍ ڈرائیوروں میں سے ۸۳۵؍ ڈرائیورہی پیر کو ڈیوٹی پر حاضر ہوئے تھے ۔ ۲؍ ہزار ۱۹۸؍ کنڈکٹروں میں سے ایک ہزار ۳۲۵؍ کنڈکٹروں نے ہی ڈیوٹی جوائن کی تھی ۔اس کے علاوہ ۲۰۶ بس انسپکٹرس میں سے ۱۳۹؍ بس انسپکٹر ڈیوٹی پر حاضر ہوئے تھے ۔
ہڑتال ختم ہونے کے بعد ڈیوٹی پر حاضر ی میں کمی اور بیسٹ بس اور ویٹ لیز بسوں کے معمول کے مطابق مکمل طور پر چلائے نہ جانے سے پیر کو بھی مسافروں کو بھیڑ اور بسوںکی آمد و رفت میں تاخیر کے سبب پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ بہرکیف بس کی ہڑتال ختم ہونے سے جہاں مسافروں کو راحت ملی ہے وہیں سہیادری گیسٹ ہاؤس میں ہونے والی میٹنگ کے دوران نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سر نائک نے نہ صرف بیسٹ بس کے مستقل ملازمین کی تنخواہوں میں ۳؍ ہزار روپے اور ویٹ لیز کے کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں میں ۲؍ ہزار روپے کا اضافہ کیا ہے ساتھ ہی حکومت نے بقایا گریجویٹی موجودہ مالی سال میں فراہم کرنے کے علاوہ ملازمین کو بنیادی سہولتیں جس میں کشادہ کینٹین ، مناسب سہولتوں سے آراستہ آرام گاہ ، واش روم اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کا بھی یقین دلایا ہے ۔