ایم این ایس کا طلبہ کیلئے غذائیت سے متعلق بیداری لانے کا مطالبہ۔ اسکولوں کو میتھی دی۔ اسکول انتظامیہ کی جانب سے وضاحت۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 10:21 AM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Bhayander
ایم این ایس کا طلبہ کیلئے غذائیت سے متعلق بیداری لانے کا مطالبہ۔ اسکولوں کو میتھی دی۔ اسکول انتظامیہ کی جانب سے وضاحت۔
یہاںمشرقی جانب واقع تپوون اسکول میں ایک طالب علم کے ٹفن میں میتھی کی سبزی لانے پر۲۰؍ روپے جرمانہ عائد کرنے کی خبر عام ہونے کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے اسکول کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق جین برادری کے مذہبی تہوار ’پریوشن پرو‘ کے دوران اسکول نے پیاز، لہسن پر مشتمل کھانا نہ لانے کی درخواست کی تھی۔ ایک طالب علم میتھی کی سبزی میں لہسن کا تڑکا لگا کر لایا تو اسے ٹفن کھانے سے روک کر کینٹین سے ۲۰ ؍روپے کا کھانا دیا گیا۔ بعد میں اسے جرمانہ قرار دے کر عام کیا گیا۔ اس معاملے میں مہاراشٹر نونرمان ودیارتھی سینا نے جمعرات کو اسکول کے باہر احتجاج کا اعلان کیا تھا جو پولیس کی مداخلت کے بعد نوگھر پولیس اسٹیشن کے سامنے علامتی مظاہرے میں بدل گیا۔ مظاہرین نے پولیس اور اسکول کو میتھی، پیاز اور ہری سبزیاں پیش کر کے انوکھا احتجاج کیا۔ایم این ایس کا الزام ہے کہ اسکول میں پیاز، لہسن لانے پر ۵۰ ؍روپے اور میتھی کی سبزی پر ۱۰۰ ؍ روپے تک جرمانہ وصول کیا گیا جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔ ایم این ایس کے مقامی صدر رابرٹ ڈیسوزا نے مطالبہ کیا کہ تمام اسکولوں میں غذائیت سے بھرپور خوراک کے تعلق بیداری مہم چلائی جائے۔ جمعرات کو نوگھر پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر، تپوون اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور محکمہ تعلیم کے افسران کو میمورنڈم پیش کر کے پیاز، لہسن، چقندر اور سبزیوں کی غذائی اہمیت بتانے والا پمفلٹ اور میتھی کی سبزی، پیاز کی سبزی اور دھنیا جیسی سبزیاں تحفتاً دی گئیں۔دوسری جانب کانگریس کارپوریٹر جے ٹھاکر نے وزیر تعلیم کو شکایتی ای میل بھیج کر اسکول کی منظوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جوہو کپاس واڑی قبرستان میں میت کی تدفین ہنوزمعلّق!
اقلیتی کمیشن کی مداخلت
ذرائع کے مطابق مہاراشٹر اسٹیٹ اقلیتی کمیشن نے پولیس کمشنر سے ۲؍ دن میں اس تعلق سے مفصل رپورٹ طلب کی ہے۔کارپوریشن کی تعلیمی کمیٹی کی صدر اسنیہا پانڈے نے کہا کہ اسکول کی وضاحت ملی ہے، جرمانہ عائد کرنے کی مکمل تحقیقات جاری ہے، قصوروار پائے جانے پر سخت کارروائی ہوگی۔
اسکول کی وضاحت
تپوون ودیالیہ کی پرنسپل کلوتھلڈا بپٹسٹا نے پریس ریلیز جاری کر کے کہا کہ یہ رجسٹرڈ جین اقلیتی اسکول ہے۔ پریوشن کے دوران اسکول بند تھا، کسی پر جرمانہ نہیں لگایا گیا، ۲۰ ؍روپے کینٹین کے کھانے کا چارج تھا۔ معاملہ اقلیتی کمیشن اور محکمہ تعلیم کو پیش کیا گیا ہے۔