• Fri, 25 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جوہو کپاس واڑی قبرستان میں میت کی تدفین ہنوزمعلّق!

Updated: September 25, 2026, 10:15 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Andheri

قبرستان کے نگراں نے تدفین شروع کرنے کا دعویٰ کیا مگریہ اعتراف بھی کیا کہ ابھی بی ایم سی سے معاہدے کو حتمی شکل دیا جانا باقی ہے- اب تک ایک بھی میت نہیں دفن نہیں کی گئی ہے۔

Juhu Kapaswadi Cemetery, where not a single body has been buried so far. Photo: Inquilab.
جوہو کپاس واڑی قبرستان جس میں اب تک ایک بھی میت دفن نہیں کی گئی ہے۔ تصویر: انقلاب

اندھیری لنک روڈپر جوہو کپاس واڑی قبرسٹان میں میت کی تدفین کامعاملہ ہنوز معلق ہے۔ اس کی وجہ سےمقامی لوگوں کےلئے میت کی تدفین کا مسئلہ برقرار ہےاورا نہیں دیگر قبرستانوں میں مجبوراً میت لی جانی پڑتی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہےکہ بعض مسلم علاقوں میں مسلمان برسوں سےقبرستا ن کامطالبہ کررہے ہیں مگر  انہیں بی ایم سی کی جانب سے جگہ الاٹ نہیں کی جارہی ہے ۔یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔برسوں کی محنت کےبعد جگہ الاٹ کی گئی، قبرستان بھی تعمیرہوگیا،  حدبندی اور قبروں کی ترتیب بھی بنادی گئی، لائٹنگ وغیرہ بھی کردی گئی گویا سارا انتظام ہوگیا پھر بھی تدفین شروع نہیں کی جاسکی ہے۔ مطلب سب کچھ ہوجانے کے باوجود اس کا مقامی مسلمانوں کو فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر پر گھمسان: پرینکا گاندھی کا گیانیش کمار پرغداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ

قبرستان کے نگراں نے کیا دعویٰ کیا ؟

یہ قبرستان مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں کی سربراہی میں چلائے جانے والے معروف دینی ادارہ جامعہ قادریہ اشرفیہ ایجوکیشنل اینڈ چیئریٹیبل ٹرسٹ کی نگرانی میںبی ایم سی نے دیا ہے اور معین میاں نےاس کی نگرانی کا ذمہ عبدالرزاق چونا والا (جوگیشوری ) کو سونپا ہے۔ عبدالرزاق چونا والا سے نمائندۂ انقلاب کے استفسار پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ ۱۵؍ دن قبل تدفین شروع کردی گئی ہے مگر یہ بھی تسلیم کیا کہ ابھی بی ایم سی سے معاہدہ کو حتمی شکل دینا باقی ہے جو ۱۵؍ ۲۰؍ دن میں ہوجائے گا۔‘‘ ان سے یہ پوچھنے پر کہ ان ۱۵؍دنوں میںکپاس واڑی قبرستان میںکتنی میت دفن کی گئی تو کہا کہ ایک بھی نہیں۔‘‘

مولاناسید معین الدین اشرف عرف معین میاں نے یکم محرم سے مذکورہ قبرستان میں تدفین کے آغاز کا اعلان کیا تھا مگر ربیع الآخر شروع ہونے کے باوجود تدفین ہنوز معلّق ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۲؍ اکتوبر کے’’نو یوپی آئی ڈے‘‘ کو تاجروں کی قومی تنظیموں کی بھی حمایت

انہوں نےتدفین میں تاخیر کے تعلق سے سوال کرنے پربتایا کہ ’’ اصل میں۵؍لاکھ روپے بی ایم سی میںڈپازٹ جمع کرانا تھا ، ۴؍ لاکھ روپے موجودہ نگراں نےجمع کرادیا ہے مگر ایک لاکھ روپے جو صفدر کرم علی (کرمالی)کےوقت میں ایک ذمہ دار نے جمع کرایا تھا، اس کی رسید نہیںمل رہی ہے، اس کےلئے آرٹی آئی کے ذریعےبی ایم سی سے جواب مانگا گیا ہے ۔امید ہے کہ اب مزیدتاخیر نہیںہوگی اورجلد ہی مقامی مسلمانوں کیلئے میت کی تدفین کامسئلہ حل ہوجائے گا، انہیں دیگر قبرستان میت نہیں لے جانا پڑے گا۔‘‘ 

 ’’تدفین کا انتظام نہیں ہے‘‘

کپاس واڑی میںرہنے والے امتیاز شیخ نے بتایا کہ ’’ ۱۰، ۱۵؍ دن قبل ہم لوگ کپاس واڑی قبرستان میں ایک میت لے جارہے تھے جب ذمہ داران سے رابطہ قائم تو کہا گیا کہ معاف کیجئے، تدفین کے وقت بی ایم سی کی جانب سے جو رسید دی جاتی ہے، وہ ابھی چھپ کر نہیںآئی ہے ۔ اس لئے مجبوراً ہمیں دوسرے قبرستان میت لے جانی پڑی۔ اس لئے جلد سے جلد یہ مسئلہ حل کیاجائے۔‘‘

ہیلتھ آفیسر نے کیاکہا ؟

  کے ویسٹ وارڈ کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اجیت پمپٹیرور کا کہنا ہے کہ ابھی یہاں قبرستان کا کچھ مسئلہ ہے، گنپتی وسرجن کے بعد مَیں لگ کر اسے حل کروں گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK