Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ کی حمایت اورپولیس کے مظالم کے خلاف بھیم آرمی کا مورچہ

Updated: July 26, 2026, 11:03 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

باندرہ کلکٹر آفس پر مورچہ نکالاگیا اورحکومت مخالف نعرےبازی کی گئی ۔ کلکٹر کے نمائندے کو۵؍اہم مطالبات پرمبنی میمورنڈم دیا ۔

Protest.Photo:INN
احتجاج۔ تصویر:آئی این این
پیپر لیک ،طلبہ کی حمایت اورپولیس کی زیادتی کے خلاف بھیم آرمی کی جانب سے باندرہ کلکٹر آفس پر سنیچر کی صبح مورچہ نکالا گیا۔ مورچہ نکال کر طلبہ سے اظہار یکجہتی اور ان پر لاٹھیاں چلانے والوں پر برہمی کے ساتھ دھرمیندر پردھان کے استعفے (استعفیٰ دے دیا)، خودکشی پر مجبور ہونے والے طلبہ کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ اور سادہ لباس میں طلبہ پر حملہ کرنے والے پولیس کی آڑ میں آر ایس ایس کے غنڈوں کی گرفتاری وغیرہ۵؍ اہم مطالبات پر مبنی میمورنڈم دیا گیا۔
 
 
مظاہرین پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر ’انیائے (ناانصافی ) کے خلاف سنگھرش جاری رہے گا ، بچوں پرظلم کرنے کا حکم دینے والے امیت شاہ استعفیٰ  دیں ، لاٹھی کا حساب دو گرہ منتری جواب دو ، شکشا بچاؤ لوک تنتر بچاؤ اورجے بھیم جے  سنویدھان کے نعرے لکھے ہوئےتھے اوران نعروں کےساتھ مودی حکومت مردہ باد کے نعرے بھی مظاہرین بلند کررہے تھے ۔ 
بھیم آرمی کے ریاستی صدر اشوک کامبلے نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ’’ہماری پارٹی کی جانب سے۵؍ مطالبات کئے گئے ہیں اور یہ طلبہ اورنوجوانوں کی آواز ہے ۔ حکومت اس پرفوری توجہ دے۔‘‘ ان سے یہ پوچھنےپر کہ اب تو دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیاہے توانہوں نے کہا کہ ’’ اگر ایسا ہوگیا ہے کیونکہ مورچہ نکالنے کےوقت تک مجھے اس کاعلم نہیں تھا تویہ بہت اچھا ہے اور نوجوانوں کی بڑی جیت ہے لیکن یہی آخری منزل نہیںہے بلکہ دیگر مطالبات پربھی فوراًتوجہ دی جائے۔‘‘ 
اشوک کامبلے نے یہ بھی کہاکہ ’’ ظلم ،زیادتی اور نا انصافی زیادہ دنوں تک نہیں چلتی۔ حکومت نے جس طرح ایجوکیشن سسٹم کوبرباد کیا اور بار بار پیپر لیک کے ذریعے لاکھوں طلبہ کی امیدوںپرپانی پھیرا، وہ خود کشی پرمجبور ہوئے، اس کی بھرپائی ممکن ہی نہیںہے۔ اس کے باوجود طلبہ اورنوجوانوں نے اپنے زبردست سنگھرش کے ذریعے اُس اہنکاری سرکار(مغرور حکومت) کو جھکنے پرمجبور کیا جس نے یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ اس کی حکومت میںاستعفے نہیں ہوتے۔‘‘ 
 
 
انہوں نے مزید کہاکہ ’’ سادہ لباس میں،کچھ منہ پرکپڑا لپیٹے تو کچھ چپل پہنے ہوئے پولیس والوں کے ساتھ طلبہ پرلاٹھیاں برسا رہے تھے، یہ کون تھے ، کس نے ان کوبھیجا اور ان کولاٹھی ڈنڈوں سےپیٹنے کا آرڈر کس نے دیا ؟ اس کی جانچ ضروری ہے تاکہ وہ چہرے بے نقاب ہوسکیں اوران کی اصلیت ملک کے سامنے آسکے کہ یہ آر ایس ایس کے غنڈےتھے یا سرکار کی سرپرستی میںتانڈو مچانے والے کچھ اورشرپسند عناصر۔‘‘
اس مورچے میںبھیم آرمی کے ممبئی کے دیگر عہدیداران اورکارکنان بھی شامل تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK