برسات کے دنوں میں کھیتوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے، مقامی باشندوں میں ناراضگی، احتجاج کا انتباہ۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 10:26 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
برسات کے دنوں میں کھیتوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے، مقامی باشندوں میں ناراضگی، احتجاج کا انتباہ۔
بھیونڈی کے مضافات میں واقع موضع کُکسے میں قدرتی نالے کو بند کرکے زرعی زمینوں کو نقصان پہنچانے کے معاملے نے سنگین رخ اختیار کرلیا ہے۔ مقامی کسانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک رئیل اسٹیٹ ڈیولپر نے برسوں پرانے قدرتی نالے کا راستہ بند کرکے کھیتی کی زمینوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جبکہ محکمۂ محصول اور پولیس انتظامیہ بھی ڈیولپر کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس معاملے پر ناراض کسانوں اور دیہاتیوں نے تحصیلدار کو تحریری شکایت پیش کرتے ہوئے فوری مداخلت اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اطلاع کے مطابق کُکسے گاؤں کے سروے نمبر ۱۵؍ اور ۵؍۱ ؍بی سے گزرنے والا قدرتی نالہ برسوں سے بارش کے پانی کی نکاسی کا اہم ذریعہ تھا۔ کسان نریش پاٹل اور دیگر متاثرین کا کہنا ہے کہ میسرس سائی سَدگرو ریالٹی ایل ایل پی کے ڈیولپر نے اس نالے کو بند کرکے نیا راستہ تعمیر کر دیا، جس کے نتیجے میں گزشتہ برسات کے دوران بارش کا پانی کھیتوں میں جمع ہوگیا اور کئی ایکڑ زرعی اراضی تالاب میں تبدیل ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: ایس ایس سی میں کامیاب جامعہ کی طالبات گریجویشن کی بھی خواہاں
کسانوں کے مطابق اس صورتحال سے فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور ان کے سامنے معاشی بحران پیدا ہوگیا ہے کیونکہ کھیتی ہی ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہے۔ متاثرین نے الزام لگایا کہ شکایت کے باوجود متعلقہ محکمے مسئلہ حل کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔مقامی افراد نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے اس معاملے میں آواز اٹھائی تو بعض پولیس اہلکاروں نے ڈیولپر کا ساتھ دیتے ہوئے کسانوں پر دباؤ ڈالنے اور دھمکانے کی کوشش کی ۔ اس رویے سے مقامی افراد میں شدید غم و غصہ ہے۔ کسانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پرانے قدرتی نالے کو فوری طور پر بحال کیا جائے، نئے تعمیر شدہ نالے کو بند کیا جائے اور معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کرکے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مقامی افراد نے انتباہ دیا ہے کہ اگر جلد انصاف نہ ملا تو بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کیا جائے گا۔